مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
شام کے صدر احمد شراع  نے اتوار کے روز بیان دیا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کے لیے ناگزیر تھا۔
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
شام / Reuters

شام کے صدر احمد شراع  نے اتوار کے روز بیان دیا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کے لیے ناگزیر تھا۔

قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر شراع نے شام کو "خطے کا مرکزی محور" قرار دیا۔

 انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے یہ یقین رکھتے تھے کہ اسد حکومت شامی عوام کے خلاف کیے جانے والے جرائم کی وجہ سے ایک دن ضرور گر جائے گی۔

 انہوں نے واضح کیا کہ ”پرانے اقتدار کا خاتمہ صرف شام کے لیے ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کی سالمیت کے لیے ضروری تھا“۔

احمد شراع نے کہا کہ مخالفین نے صرف فوجی کارروائیوں پر ہی توجہ نہیں دی، بلکہ وہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کو چلانے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔

 ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی ہماری کوششوں کا صرف ایک ذریعہ ہے، ہمیں ایک مضبوط میڈیا بیانیے، عوامی حمایت، ایک مؤثر انتظامیہ اور اداروں کی تعمیر، معیشت کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے حالات پیدا کرنے کے لیے ایک وسیع ٹیم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کی حکمتِ عملی میں اتحاد کی اہمیت کو مرکزی قرار دیا اور کہا کہ یہ مہم کے دوران طاقت کا اصل سرچشمہ رہا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی ناکامیوں اور محدود وسائل نے انہیں قیمتی اسباق سکھائے، جس کی وجہ سے انہوں نے دمشق کے اندر سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کو منظم کیا اور ساتھ ہی اپوزیشن کے کنٹرول والے علاقوں میں اداروں کو بھی قائم کیا۔

شامی صدر نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی بیرونی امداد پر انحصار نہیں کیا؛ بلکہ اس کے بجائے انہوں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک متوازن مقامی معیشت تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی جو بعد میں اسد حکومت کا تختہ الٹنے والے حملوں کا نقطہ آغاز بنی۔

انہوں نے کہا کہ شدید محاصرے اور دباؤ کے باوجود میں نے جنگ، تعمیرِ نو اور معیشت کو یکساں اہمیت دی۔

صدر نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ادلب میں زندگی کے معیار کے معاملے میں پرانی حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کی جڑیں مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں  سے جڑی ہیں، جس نے ان کی شناخت کو تشکیل دیا اور عرب قوم پرست نظریات اور اسلامی سوچ نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

صدر شراع نے انٹرویو کے آخر میں شام کو تہذیب کا گہوارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ انسانیت کا آغاز یہیں شام میں ہوا تھا۔ اور جب ہم دمشق کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو ہم انسانی تہذیب کے گہوارے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں“۔

 

 

دریافت کیجیے
غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے: اقوام متحدہ
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں 7 افراد ہلاک، علاقے میں حملوں میں شدت آئی ہے
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
روس کا کیف پر حملہ،5 افراد ہلاک،متعدد زخمی
عراق نے  60 لاکھ اسلحے کے اندراج کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرلیا
"ڈرون میزائل دھماکہ " مولدووا نے روس سے اپنا سفیر واپس بلالیا
فلپائن میں بارشوں اور لرزشِ اراضی سے 12 افراد ہلاک، 8 لاپتہ
کویت کی طرف سے پاکستان کو مبارکباد
چین: ڈولفن طوفان کے باعث 1.5 ملین سے زائد افراد بے گھر
ایرانی وزیر خارجہ: "ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے"
ہندوستان کے ریاست آسام میں سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی
امریکہ اور کینیڈا میں تیز رفتار جنگلاتی آگ، متاثرہ علاقوں کے باسی انخلاء پر مجبور
میٹا کو ایک اور مقدّمے کا سامنا
سعودی عرب،16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
نگاساکی ایٹم بم کی 81 ویں برسی