ترکیہ کے ایل پی جی بحری جہاز پر یوکرین کی اوڈیسا بندرگاہ میں آگ بھڑک اٹھی

جہاز کے 16 رکنی عملے کی طبی حالت ٹھیک  ہے۔ ایل پی جی کا دو تہائی حصہ ابھی بھی جہاز پر موجود ہے۔

By
اودیسا میں ایل پی جی جہاز پر آگ بدستور لگی ہوئی ہے، ترک عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ [فائل فوٹو]

 ترکیہ کے یوکرین کے جنوبی شہر میں تعینات قونصل جنرل محُتِّتین چیلک نے کہا  ہے کہ ترک پرچم بردار  ایل پی جی  بحری جہاز، جسے یوکرین   کے علاقے اوڈیسا میں ایک بندرگاہ پر نشانہ بنایا گیا تھا، پر لگی آگ  تا حال جاری ہے۔

چیلک نے انادولو  ایجنسی کو بتایا ہے کہ ترک پرچم بردار بحری جہاز ORINDA  کو ازمایل بندرگاہ پر سامان اتارتے وقت  اس واقع کا سامنا کرنا پڑا  ،  تمام عملے کو نکال لیا گیا ہے اور وہ خیریت سے ہیں، تاہم دھماکے کے خطرے کا خدشہ برقرار ہے۔

چلیک نے کہا کہ اس واقعے  کے پیچھے   ایک ڈراون کا ہاتھ تھا۔جہاز کے عملے نے ہمارے قونصل خانے کے فون پر رابطہ کیا اور صورتحال رپورٹ کی۔ ہمارے قونصل خانے کے عملے نے مقامی حکام کے ساتھ ہم آہنگی قائم کی اور ضروری قونصلی تحفظ  کا بندوبست کرتے ہوئے عملے کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاز کے 16 رکنی عملے کی طبی حالت ٹھیک  ہے۔ ایل پی جی کا دو تہائی حصہ ابھی بھی جہاز پر موجود ہے۔ فائرفائٹرز پانی چھڑک کر جہاز کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دھماکے کے خطرے پیشِ نظر  باعث بندرگاہ میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

چیلک نے کہا کہ جہاز کی مالک کمپنی کی ایک تکنیکی ٹیم  کی بندرگاہ آمد متوقع ہے۔ جس کی  رپورٹ کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے گا کہ آیا جہاز کو دوبارہ پانی  اتارا جا سکتا ہے کہ نہیں۔