شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس چین میں ہوگا

چین کے صدر شی جن پنگ رواں ماہ کے اواخر میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس اور 20 سے زائد سربراہان حکومت کی میزبانی کریں گے۔

/ AFP

چین کے صدر شی جن پنگ رواں ماہ کے اواخر میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس اور 20 سے زائد سربراہان حکومت کی میزبانی کریں گے۔

چین کے نائب وزیر خارجہ لیو بن نے اجلاس کی تیاریوں کے بارے میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ دنیا کے تقریبا ایک چوتھائی حصے پر پھیلے ہوئے بلاک کے رہنما 31 اگست سے یکم ستمبر تک تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی  اجلاس کے لیے جمع ہونے پر اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے نئے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔

یہ  اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان منعقد ہو رہا ہے جس میں  رکن ممالک یا مہمان ممالک جیسے ترکیہ، بیلاروس، ایران، قازقستان، پاکستان اور ویتنام کے سرکردہ رہنما بھی شرکت کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم بھی اکتوبر میں کوالالمپور میں ٹرمپ اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے دیگر رہنماؤں کی میزبانی سے قبل سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

چین کے صدر شی جن پنگ اس تقریب میں کلیدی تقاریر کریں گے جس میں بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔

اس اجلاس  کے ذریعے چین کو امید ہے کہ وہ "تعاون کی رفتار کو فروغ دے گا۔

 لیو نے ایک بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا  کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے استحکام اور لچک کے ساتھ بین الاقوامی ماحول میں غیر یقینی اور غیر متوقع عوامل کا جواب د یا جائے  ۔

انہوں نے امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں بالادستی اور اقتدار کی سیاست کی فرسودہ ذہنیت اب بھی اثر و رسوخ رکھتی ہے اور بعض ممالک اپنے مفادات کو دوسروں پر ترجیح دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے عالمی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے استحکام اور لچک کے ساتھ، ہم غیر یقینی صورتحال اور غیر متوقع عوامل سے نمٹ سکتے ہیں ۔۔

انہوں نے کہا کہ  یہ اجلاس  تیانجن اعلامیے پر دستخط اور اجراء کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔

 یاد رہے کہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں 2024 ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں رہنماؤں نے علاقائی انسداد دہشت گردی، قابل تجدید توانائی اور ڈیجیٹل معیشت پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔