اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید

غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے کہا کہ ایک اسرائیلی ڈراون نے البریج پناہ گزین کیمپ میں ایک پولیس پوسٹ کے قریب دو میزائل داغے۔

By
دیر البلح، وسطی غزہ میں واقع الاقصیٰ شہداء ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کے جنازے میں سوگوار دعا کر رہے ہیں، 11 اپریل 2026۔ / Reuters

غزہ کی شہری دفاع ریسکیو سروس نے ہفتہ کو کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کل شب  سات افراد  شہید ہو گئے، جو پچھلے سال اکتوبر سے نافذ رہنے جنگ بندی کی ایک نئی خلاف ورزی ہے۔

غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے کہا کہ ایک اسرائیلی ڈراون نے البریج پناہ گزین کیمپ میں ایک پولیس پوسٹ کے قریب دو میزائل داغے۔

انہوں نے کہا کہ سات افراد کی ہلاکت کے علاوہ کئی دیگر زخمی بھی ہوئے، جن میں چار کی حالت تشویشناک ہے۔

وسطی غزہ کے الاقصیٰ ہسپتال  کا کہنا ہےکہ یہاں چھ لاشیں اور سات زخمی لائے گئے، "جن میں چار کی حالت تشویشناک ہے، ان کے  چہرے، سینے اور جسم کے دیگر حصوں پر براہِ راست ضربیں لگی ہیں۔"

قریب واقع العودة ہسپتال نے کہا  ہےکہ اس اسپتال کو ایک لاش  اور دو زخمی لائے گئے۔

اے ایف پی سے تبصرہ طلب کیے جانے پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ ان معلومات کی تصدیق  پر کام  کر رہی ہے۔

اسرائیل اور حماس باقاعدگی سے ایک دوسرے پر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی تھی، اور یہ جنگ بندی 2023 میں فلسطینی تحریک کے سرحد پار حملے کے بعد شروع ہونے والی دو سالہ جنگ کے بعد نافذ کی گئی تھی۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز کے بعد کم از کم 738 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن کے اعداد و شمار اقوامِ متحدہ کی نظر میں قابلِ اعتبار سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے آغاز کے بعد پانچ فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے۔