امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:ایران
عراقچی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکیوں کے ساتھ دوبارہ بات چیت یا مذاکرات کا سوال میز پر ہوگا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے امریکیوں کے ساتھ بات چیت کا بہت تلخ تجربہ ہے
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بہت تلخ تجربے کے بعد ایک بار پھر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
پیر کو PBS نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں عراقچی نے اس سوال کا جواب دیا کہ آیا ایران کے نئےا علیٰ مقام رہبر مجتبیٰ خامنہ ای دوبارہ گفتگو یا جنگ بندی کے لیے آمادہ ہوں گے یا نہیں توانہوں نے کہا کہ ان کے لیے کسی بھی قسم کی تبصرہ کرنا ابھی بہت جلد ہے'۔
عراقچی نے کہا کہ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکیوں کے ساتھ دوبارہ بات چیت یا مذاکرات کا سوال میز پر ہوگا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے امریکیوں کے ساتھ بات چیت کا بہت تلخ تجربہ ہے'۔
انہوں نے پچھلے جون میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ کی طرف اشارہ کیا جب اسرائیلی اور امریکی افواج نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت جاری ہونے کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
فروری کے آخر میں جنیوا میں امریکی-ایران جوہری مذاکرات کے تازہ ترین دور کا حوالہ دیتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ دونوں جانب نے عمانی ثالثی کے تحت ان گفت و شنید کو تعمیری قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ لیکن پھرمذاکرات کے تین دور کے بعد اور مذاکرات میں امریکی ٹیم کے یہ خود کہنے کے باوجود کہ ہم نے بڑی پیشرفت کی پھر بھی انہوں نے ہمیں نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ امریکیوں کے ساتھ بات کرنا اب ہماری ایجنڈا میں ہوگا'۔
عالمی تیل کی منڈیوں میں خلل کے بارے میں بات کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ تیل کی پیداوار اور نقل و حمل میں سست روی کا ذمہ دار ایران نہیں ہے ،یہ ہمارا قصور نہیں ہے۔
ان کا موقف تھا کہ یہ خلل اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔
عراقچی کے مطابق ان حملوں نے خطے کو تیزی سے غیر مستحکم اور غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ٹینکرز اور جہاز ہرمز سے گزرنے میں خوف محسوس کر رہے ہیں
عراقچی نے ان الزامات کو بھی رد کر دیا کہ ایران علاقائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے ذریعے جان بوجھ کر تیل کی فراہمی محدود کر رہا ہے،ہم ایک ایسی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں جو بالکل غیرقانونی ہے، اور جو ہم کر رہے ہیں وہ دفاعِ خود ہے جو قانونی اور جائز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے علاقائی ریاستوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر براہِ راست حملہ کیا تو ایران پورے خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دے گا جس کےنتیجے کے طور پر جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی جس کے ذمےدار ہم نہیں ہونگے۔