ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے حربوں کے بعد فرانس نے گرین لینڈ میں نیٹو مشقوں کا مطالبہ کر دیا
متعدد یورپی ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد آرکٹک جزیرے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
فرانسیسی ایوان صدر نے اعلان کیا ہے کہ فرانس، گرین لینڈ میں نیٹو کی فوجی مشق کے انعقاد کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ اس میں "حصہ لینے کے لیے تیار" ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار اس آرکٹک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات کے باعث کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
گرین لینڈ، جو مملکتِ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے، اپنی اسٹریٹجک محل وقوع اور وسیع معدنی وسائل کی وجہ سے ٹرمپ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، نیز وہاں روسی اور چینی سرگرمیوں کے بڑھنے کے بارے میں خدشات بھی بتائے گئے ہیں۔
ایک طرف ٹرمپ نے اس جزیرے کو قبضے میں لینے کے لیے طاقت کے استعمال کا امکان مسترد نہیں کیا اور اپنے دعوے کی حمایت میں تصاویر پوسٹ کی ہیں ، تو ڈنمارک اور گرین لینڈ نے اسے فروخت کرنے کی تجاویز کو رد کرتے ہوئے علاقے پر ڈنمارک کی حکمرانی کا اعادہ کیا ہے۔
فرانس، ڈنمارک، سویڈن اور جرمنی مشقوں اور جاسوسی آپریشنز کے ذریعے گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں، جب کہ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ روس اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ علاقہ "امریکہ کے کنٹرول" میں ہونا چاہیے۔
ہفتہ کو ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ، "گرین لینڈ کی مکمل اور کل خریداری" کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہو نے تک یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور یہ جون میں 25 فیصد تک ہو جائیگا۔
جواباً، یورپی رہنماؤں نے مذکورہ آٹھ یورپی ممالک کے خلاف ٹرمپ کی محصولات دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے اور ڈنمارک کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔