ایران: امریکہ، اسرائیلی اثر و رسوخ سے آزاد جوہری مذاکرات کرے

تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس امر پر مشترکہ نقطۂ نظر موجود ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ انہیں  حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

By
(فائل) ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات میں تعاون کے لیے اب بھی تیار ہے۔ / Reuters

ایران نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات میں اسرائیلی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر اپنے مفادات کا خود جائزہ لے۔

حال ہی میں الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے اور خطّے کے ممالک بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعيدی کے توسط سے تہران کے موقف کو امریکہ تک پہنچانے کے لیے بھیجے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  کہ تاحال اس کا  کوئی سرکاری جواب موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران مذاکرات میں تعاون کے لیے کھلا ہے اور بات چیت کی حمایت جاری رکھے گا،  انہوں نے بتایاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس امر پر مشترکہ نقطۂ نظر موجود ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ انہیں  حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

مذاکرات کے عمل کو طول دینے  کا سدِ باب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا کیونکہ دیگر معاملات کو شامل کرنے سے عمل متاثر یا بگڑ سکتا ہے۔"ہمارا میزائل پروگرام جوہری پروگرام سے بالکل الگ  تھلگ ہے۔ یہ بنیادی طور پر ہمارے قومی دفاع اور سلامتی سے منسلک داخلی معاملہ ہے۔ اس لیے یہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتا۔"

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی کو صفر تک لانے کا تصور ' زیر بحث ' نہیں۔

انہوں نے کہا"یہ غیر عملی ہے کہ کوئی ملک جس نے اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر لیا ہو اسے صفر تک لے آئےاور یہ  بھی بتایا کہ صحت کے تحقیقی اور طبی مقاصد کے لیے افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔"

لاریجانی نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے اسرائیل کو  مذاکرات میں مداخلت اور خطّے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کا  مورد الزام ٹہرایا۔

انہوں نے کہا"ہماری بات چیت متحدہ امریکہ  کے ساتھ ہو رہی  ہے۔ ہم اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت میں ملوث نہیں ہیں"، "تاہم، اسرائیل نے خود کو اس عمل میں گھسیٹا ہے اور یہ مذاکرات کو کمزور اور سبوتاژ کرنے کے درپے  ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ایران خطّے میں  استحکام برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

گزشتہ سال جون میں اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لاریجانی نےاعتراف  کیا کہ ایران کا انٹیلی جنس نظام ویسا مضبوط نہیں تھا جیسا پیش کیا گیا تھا، تاہم سیکورٹی اقدامات مضبوط کیے گئے اور اسرائیل کے حملے نے قومی اتحاد کو تقویت  دی  ہے۔