چین کے ساتھ نادر معدنیات کی تلاش میں تعاون کے خواہاں ہیں:جنوبی کوریا
ایشیا
3 منٹ پڑھنے
چین کے ساتھ نادر معدنیات کی تلاش میں تعاون کے خواہاں ہیں:جنوبی کوریابتایا گیا ہے کہ  سیئول نے جدید ٹیکنالوجیز کے لیے درکار نایاب  معدنیات  کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے کے منصوبے بھی جاری کیے ہیں۔
چین-جنوبی کوریا / Reuters

جنوبی کوریا نے اہم معدنیات کی سپلائی چینز پر چین کے ساتھ قریبی تعاون کی تلاش کا اعلان کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ  سیئول نے جدید ٹیکنالوجیز کے لیے درکار نایاب  معدنیات  کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے کے منصوبے بھی جاری کیے ہیں۔

اس ہفتے جنوبی کوریا نے ایک امریکی قیادت والے تجارتی بلاک میں شمولیت اختیار کی تھی جو اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر چین پر بھاری انحصار سے بچنے اور جدید صنعتوں کے لیے اسٹریٹجک طور پر اہم مادوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔

وزارتِ تجارت نے کہا کہ وہ چینی حکام کے ساتھ ایک ہاٹ لائن اور مشترکہ کمیٹی قائم کرے گی تاکہ جنوبی کوریا کی کمپنیاں چینی معدنیات کو تیزی کے ساتھ درآمد کر سکیں۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی کوریا جو کہ سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری اور پیٹرو کیمیکل کمپنیوں کا گھر ہے نایاب معدنیات  کی  مکمل سپلائی چین سے محروم ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکام قومی سلامتی کے لیے درکار 17 اہم معدنیات کو نامزد کریں گے اور غیر متوقع قلت سے بچنے کے لیے ان کی فراہمی کی نگرانی اور تجزیہ سخت کریں گے۔

ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے سیئول نے کہا کہ وہ دیگر ممالک بشمول امریکہ، ویتنام اور لاوس کے ساتھ بھی تعاون کرے گا،حکومت مقامی کمپنیوں کی غیر ملکی کانیں ترقی دینے میں مدد کے لیے 250 بلین ووان (تقریباً 172.35 ملین ڈالر) کی ریاستی رقم مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اکتوبر میں بیجنگ نے اپنے نایاب زمینی معدنیات  پر کنٹرول میں اضافہ کیا، جس میں سیمی کنڈکٹر صارفین کے لیے اضافی جانچ پڑتال بھی شامل تھی، اس وقت جنوبی کوریا کی وزارتِ تجارت نے کہا تھا کہ چین  نایاب زمینی معدنیات  پر  عالمی سپلائی چینز میں عدم استحکام بڑھا رہا ہے۔

بدھ کو جنوبی کوریا کو اہم معدنیات کے لیے ایک ترجیحی تجارتی بلاک کی صدارت سونپی گئی، جسے وسائل کے جیو-اسٹریٹجک رابطے کے فورم کے نام سے متعارف کرایا گیا—فورم آن ریسورس جیو-اسٹریٹجک انگیجمنٹ (FORGE)—جسے واشنگٹن نے اس کوشش کے طور پر شروع کیا تھا کہ سپلائی چینز کو کسی ایک ملک کے جغرافیائی سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال ہونے سے بچایا جا سکے۔

جب کہ امریکہ نے پچھلے سال بیجنگ کے برآمدات محدود کرنے کے نتیجے میں اپنی بالادستی کے خدشات کے بعد اہم معدنیات کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے طریقے تیز کیے، جنوبی کوریا نے اپنی صنعت کے لیے ضروری مواد کی فراہمی کی استحکام کے معاملے میں چین کے ساتھ زیادہ سفارتی انداز اپنایا ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ چو-ہیون نے واشنگٹن میں ایک اجلاس میں کہا کہ سیئول، جو جون تک اس بلاک کی صدارت کرے گا، پارٹنرز کے ساتھ ہم آہنگی بڑھائے گا اور سپلائی چینز کو محفوظ بنانے والے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد کرے گا۔

 

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں