مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امریکہ ہمیں الزام نہ دے وہ بذات خود دہشتگردی کا سرپرست ہے:ایران
ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے مطالبے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دہشت گردی کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
امریکہ ہمیں الزام نہ دے وہ بذات خود دہشتگردی کا سرپرست ہے:ایران
ایران / AA
14 اکتوبر 2025

ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے مطالبے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دہشت گردی کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے بین الاقوامی امن اجلاس میں شرکت سے قبل پیر کو اسرائیلی کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے رہنماؤں کے لیے اس سے زیادہ کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا کہ وہ دہشت گردوں  سے چھٹکارا   پائیں، اپنے ہمسایوں کو دھمکیاں دینا بند کریں، اپنے عسکریت پسند آلہ کاروں کی مالی اعانت بند کریں اور اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کریں۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہتا ہے "چاہے وہ یہ کیوں نہ کہے کہ 'ہم کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہتے'۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ،دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا محرک اور دہشت گرد اور نسل کشی کرنے والی صہیونی حکومت کے حامی ہونے کے ناطے دوسروں پر الزام لگانے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں رکھتا۔

 ایران کی وزارت نے کہا ہے کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں جھوٹے دعووں کا اعادہ کسی بھی طرح سے امریکہ اور صہیونی حکومت کے مشترکہ جرائم کا جواز نہیں دے سکتا۔

 یاد رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو تہران پر اچانک حملہ کیا تھا جس میں فوجی، جوہری اور سویلین تنصیبات کے ساتھ ساتھ سینئر فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

تہران نے جوابی میزائل اور ڈرون حملے کیے جبکہ امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی ۔

 12 روزہ تنازعہ امریکی سرپرستی میں جنگ بندی کے بعد رک گیا تھا جو 24 جون کو نافذ العمل تھا۔

 'بین الاقوامی انصاف میں رکاوٹ'

 وزارت نے واشنگٹن کو اسرائیل کے "استثنیٰ میں" کردار کے لئے جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ، "بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف کسی بھی موثر کارروائی کو روکنا اور اسرائیلی مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے کے مقصد سے بین الاقوامی عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈالنا۔"

اکتوبر 2023 کے بعد سے، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 67,800 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، جس سے یہ علاقہ بڑی حد تک ناقابل رہائش رہ گیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ جمعے کو نافذ العمل ہو گیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
خلیج عمان میں امریکی ایرانی کشیدگی میں اضافہ
جنوبی لبنان میں 1اسرائیلی فوجی ہلاک،نو زخمی
تہران کی نیک نیتی کو کمزوری نہ سمجھا جائے: باقر قالیباف
ایران: جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا
دس روزہ لبنان۔اسرائیل جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا
"آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کم رہی
اسرائیل: لبنانی شہری دریائے زہرانی کے جنوبی علاقے خالی کر دیں
امریکی ناکہ بندی کے باوجود ہرمز سے بحری آمدورفت جاری
امریکی پابندیوں میں شامل چینی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا
ہم پر حملوں میں ملوث 5 عرب ریاستیں معاوضہ ادا کریں:ایران
"امریکی مطالبات اور ایران کے تحفظات"
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
لبنان پر حملوں کا جواب،حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے
کیا نیتین یاہو سیاسی لحاظ سے ناکام ہو چکےہیں ؟