مِت (MİT) کا سرحد پار جاسوسی آپریشن: 12 سال سے مفرور جاسوس گرفتار
ترکیہ کی قومی انٹیلی جنس تنظیم (MİT) نے، 12 سال سے مفرور جاسوس 'اوندر سیغیرجق اوغلو' کو شام ۔ لبنان سرحد پر گرفتار کر کے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
ترکیہ کی قومی انٹیلی جنس تنظیم 'مِت' اور شامی انٹیلی جنس سروس کے مشترکہ آپریشن میں گرفتار کئے گئے اس مفرور جاسوس' سیغیرجق اوغلو 'کو انقرہ چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس اور انقرہ پولیس ڈائریکٹریٹ کے شعبہ انسدادِ دہشت گردی (TEM) کے تعاون سے عدلیہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
شام کی تقدیر پر اثر انداز ہونے والا واقعہ
اوندر سیغیرجق اوغلو وہی شخص ہے جس نے 2011 میں آزاد شامی فوج (FSA) کے کمانڈروں حسین ہرموش اور مصطفیٰ قاسم کو اغوا کر کے اسد حکومت کے حوالے کیا تھا۔ اس کے بعد حسین ہرموش کو تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے شام کی خانہ جنگی کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
سیغیرجق اوغلو کو 2013 میں "جبر، دھمکی یا فریب سے شخصی آزادی سلب کرنے" کے جرم میں 20 سال سزائے قید سنائی گئی لیکن وہ 2014 میں عثمانیہ اوپن ایئر جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
فرار میں دہشتگرد تنظیم 'فیتو' کا ہاتھ تھا
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس فرار کے پیچھے فیتو یعنی'گولن تحریک' سے منسلک نیٹ ورکوں کا ہاتھ تھا۔ کیس کی فائلوں میں غیر قانونی تبدیلیوں، سزا کی مدت کے غلط حساب اور چھٹی کے عمل میں سنگین بے اصولیوں کی نشاندہی ہوئی۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ سیغیرجق اوغلو کی فردِ جرم 2014 میں فیتو کے رکن پراسیکیوٹر اعوزجان شیشمان نے تیار کی اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری فیتو کے پراسیکیوٹر 'یونس باقی' نے کی تھی۔
مِت کی طرف سے مستقل نگرانی
فرار کے بعد سیغیرجق اوغلو شام، روس اور لبنان جیسے ممالک میں روپوش رہا۔ مِت نے مفرور کی مسلسل نگرانی کے لئے مستقل تعاقب نیٹ ورک قائم کیا۔ اس آپریشن میں جسمانی نگرانی، تکنیکی آلات کے ذریعے نگرانی، سائبر تعاقب اور انٹیلی جنس کے تمام جدید ذرائع استعمال کئے گئے۔
اسد حکومت کی خفیہ سروس کی طرف سے تحفظ
شام میں پناہ لینے کے بعد اسد حکومت کی انٹیلی جنس نےمفرور کو تحفظ فراہم کیا اور بدلے میں ترکیہ کے خلاف فعال جاسوسی کا مطالبہ کیا۔سیغیر جق اوغلو نے اس دورانیے میں ترکیہ کے حق میں کام کرنے والے بعض افراد کی شناخت اور نقل و حرکت سے متعلقہ معلومات دشمن ایجنسیوں کو فراہم کیں۔
ترکیہ مخالف متعدد سرگرمیوں میں ملوث رہا
اس نے دہشت گرد تنظیم THKP/C 'مقاومتِ شام' کے سربراہ معراج اورال اور 2018 میں گرفتار ہونے والے حطائے/ریحانلی دھماکوں کے مجرم یوسف نازک کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کئے۔ معراج اورال کی ہدایات پر سیغیر جق اوغلو نے ترکیہ کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔ ان دونوں نے جعلی تصاویر اور ویڈیو مناظر کے ذریعے نفسیاتی آپریشن (Psychological Operations) چلا کر ذرائع ابلاغ میں جھوٹی خبروں کی اشاعت کو یقینی بنایا۔
ایک نیوز سائٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں اس نے اعتراف کیا کہ "حسین ہرموش کو اس نے خود اغوا کیا تھا، یہ کارروائی اس نے ترکیہ کی شام سے متعلقہ پالیسی کو غلط سمجھتے ہوئے انجام دی، اغوا کے اس پورے آپریشن کی منصوبہ بندی اس نے خود کی تھی اور اسے اپنے کئے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔"
ریحانلی کے قاتل کے ساتھ قریبی تعلقات
اوندر سیغیرجق اوغلو نے ریحانلی دھماکوں کے مجرم یوسف نازک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات قائم کئے اور ایک دور میں وہ دونوں شام میں ایک ہی گھر میں مقیم رہے۔ ان کے درمیان قربت اس حد تک تھی کہ سیغیرجق اوغلو نے یوسف نازک کو جیل سے رہا کروانے کے لیے شامی انٹیلی جنس کے ساتھ اپنے تعلقات تک کو استعمال کیا۔ 2018 میں مِت کے ایک آپریشن کے ذریعے ترکیہ لائے گئے یوسف نازک نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسے سیغیرجق اوغلو نے جیل سے چھڑوایا تھا۔
روسی انٹیلی جنس کے لیے بھی کام کیا
اوندر سیغیرجق اوغلو نے روسی انٹیلی جنس کے ساتھ بھی رابطے اور ملاقاتیں کیں اور ترکیہ سے متعلق تزویراتی (اسٹریٹجک) اور حساس معلومات ان کے ساتھ بانٹیں۔
آپریشن کی مرحلہ وار منصوبہ بندی
مِت (MİT) نے اوندر سیغیرجق اوغلو کے فرار کے بعد جسمانی اور تکنیکی طریقوں سے اس کی نقل و حرکت کا مکمل پروفائل تیار کیا۔ اس کے رابطوں کے نیٹ ورک اور پناہ گاہوں کی نشاندہی کی گئی اور اسے مستقل نگرانی میں رکھا گیا۔ انٹیلی جنس تجزیئوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ سیغیرجق اوغلو پہلے شام میں، پھر لبنان کے علاقے جبل محسن میں ایک گھر میں چھُپا رہا اور اس کے بعد وہ روس کے کراسنوڈار خطے میں گیا اور پھر براستہ مصر دوبارہ لبنان پہنچ گیا۔
سیغیرجق اوغلو کے دوبارہ شام میں داخل ہونے کی کوشش سے متعلق مخبری کے بعد مِت اور شامی انٹیلی جنس کے درمیان خفیہ سطح پر ایک مشترکہ آپریشن تیار کیا گیا۔ دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سرحدی لائن پر مربوط طریقے سے کام کیا اور اس کے سرحد عبور کرنے کا انتظار کیا۔ 12 سالہ فرار کے بعد، شام۔لبنان سرحد پر کئے گئے مشترکہ آپریشن میں اوندر سیغیرجی اوغلو کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترک اور شامی انٹیلی جنس کا مشترکہ ورکنگ گروپ
گرفتاری کے بعد مِت اور شامی انٹیلی جنس نے حسین ہرموش کی پھانسی تک کے پورے عمل کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے۔
سیغیرجق اوغلو کو عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا اور توقع ہے کہ اسے موجودہ 20 سالہ سزائے قیدکے ساتھ ساتھ، سیاسی و فوجی جاسوسی، دہشت گرد تنظیم کی معاونت، اختیارات کا ناجائز استعمال اور قتل میں مدد جیسے جرائم کے تحت بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اوندر سیغیرجق اوغلو کی گرفتاری ترکیہ اور شام کے درمیان انٹیلی جنس کی سطح پر تعاون کے حوالے سے علاقائی توازن میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس آپریشن کے ذریعے 2011 کی غداری کے مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں پہنچا دیا گیا ہے۔ مِت کے طویل مدتی تزویراتی صبر، انٹیلی جنس تدّبر اور آپریشنل قابلیت نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔














