امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ تہران کی درخواست پر وہ ایران کےبجلی گھروں پر حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخر کریں گے اور کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ‘‘بہت اچھے’’ انداز میں جاری ہے، حالانکہ ایک ایرانی عہدیدار نے جنگ ختم کرنے کی امریکی پیشکش کو ‘‘یکطرفہ اور غیر منصفانہ’’ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ پڑوسی ممالک تک پھیل چکی ہے اور 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حمّوں کے بعد سے عالمی معیشت پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
جمعرات کو، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرے گا تو اس پر دباؤ بڑھایا جائے گا، اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی بجلی گھروں پر حملوں کو 10 دن کے لیے یعنی 6 اپریل 2026 تک ملتوی کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پیغام میں مزید کہا: "بات چیت جاری ہے اور، جعلی نیوز میڈیا اور متضاد بیانیوں کے باوجود، یہ بہت اچھے انداز میں چل رہی ہے۔"
بعد ازاں انہوں نے فاکس نیوز کے پروگرام "The Five" کو بتایا کہ ایرانیوں نے سات دن کی رعایت کی درخواست کی تھی۔ جس پر تہران کی جانب سے فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔
دی وال اسٹریٹ جرنل نے قیاس کیا ہے کہ ایرانی امن مذاکرات کے ثالثین نے کہا ہے کہ ایران نے پاور پلانٹس پر حملوں پر 10 دن کی توقف کی درخواست نہیں کی۔
ڈرون اسپیڈ بوٹس
جنگ نے کشت کاری کو بری طرح متاثر کیا ہے، خام تیل کی قیمتیں تقریباً 40 فیصد تک بڑھ چکی ہیں اور خطہ ایشیا کو مائع قدرتی گیس کی ترسیلات میں خلل آیا ہے۔ خوراک کی پیداوار کے لیے اہم نائٹروجن پر مشتمل کھادوں کی قیمتیں بھی تقریباً 50 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
ٹرمپ کے خوشگوار انداز کے باوجود، ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جوابات جاری رکھے؛ اس نے اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، خلیجی ریاستوں پر حملے کیے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے ایندھن کے راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا۔
پینٹاگان نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف آپریشنز کے حصے کے طور پر گشت کے لیے بغیر عملے والی ڈرون اسپیڈ بوٹس تعینات کی ہیں، اور یہ پہلا موقع ہے جب واشنگٹن نے فعال تنازعے میں ایسے بحری آلات استعمال کرنے کی تصدیق کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران امریکی مطالبات پر عمل نہیں کرے گا تو امریکہ ایران کا "بدترین ڈراؤنا خواب" بن جائے گا، جن میں آبنا کو کھولنا اور تہران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ شامل ہیں۔
انہوں نے ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کو ایک ممکنہ اختیار قرار دیا، مگر اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں۔
ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان کے ذریعے بدھ کو تہران تک پہنچائی گئی 15 نکاتی امریکی تجاویز کا اعلیٰ ایرانی حکام اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے نے مفصل جائزہ لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے یہ تجاویز صرف امریکی اور اسرائیلی مفادات کا احاطہ کرتی ہیں، تاہم سفارتی راستے تا حال بند نہیں ہوئے۔
دوسری جانب دو طرفہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کو ایران نے اسرائیل پر متعدد لہروں میں میزائل داغے، جنہوں نے تل ابیب، حیفا اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق کم از کم ایک بیلسٹک میزائل تل ابیب میں لگا، جبکہ دیگر میزائلوں نے کلسٹر بمباریاں کیں جن سے چھوٹے دھماکہ خیز مادّے پھیل گئے، جن سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
اسرائیل کی ایمبولینس سروس نے کہا کہ ناباریہ میں حزب اللہ کے راکٹ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔
ایران میں، بمباری نے جنوبی شہر بندرعباس اور شیراز کے ایک مضافاتی گاوں کو نشانہ بنایا۔ اصفہان میں ایک یونیورسٹی کی عمارت کے بھی نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں۔
خلیجِ ہرمز کا معاملہ
جمعرات کو ٹرمپ نے تجویز کیا کہ مذاکرات میں حسنِ نیت کے طور پر ایران دس تیل ٹینکروں کو خلیج ہرمز سے گزرنے دے، جن میں سے بعض پاکستانی پرچم بردار ہوں گے۔
صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں فوجی بھیجے ہیں، جن میں سے کچھ پہلے ہی پہنچ چکے ہیں، جس سے زمینی حملے کی توقعات بڑھ گئی ہیں، اگرچہ تفصیلات محدود ہیں۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے تصدیق کی کہ امریکہ نے جنگ ختم کرنے کے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر ایک "15 نکاتی ایکشن لسٹ" ارسال کی ہے۔
ذرائع اور رپورٹس کے مطابق اس میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، میزائل پروگرام کو بند کرنا اور عملی طور پرآبنائے ہرمز کے کنٹرول کو ان کے حوالے کرنا شامل ہیں۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان "بلواسطہ بات چیت" اسلام آباد کے ذریعے پہنچائے جانے والے پیغامات کے ذریعے ہو رہی ہیں، جبکہ ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ریاستیں بھی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کر رہی ہیں۔
کسی بھی بات چیت کے بہت پیچیدہ ہونے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنا موقف سخت کر دیا ہے، وہ مستقبل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف ضمانت، نقصانات کے معاوضے اور خلیج پر سرکاری کنٹرول کا مطالبہ کر رہا ہے۔ علاقائی ذرائع نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ لبنان کو بھی کسی معاہدے یا جنگ بندی میں شامل ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ ایران میں کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، جب کہ مشرقِ وسطیٰ بھر میں جاری جنگ میں ہزاروں افراد کے درمیان بہت سے اعلیٰ عہدے دار ہلاک ہو چکے ہیں۔












