امریکہ کی ایران کے خلاف کاروائی کا امکان، اسرائیل چوکنا ہو گیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ روزوں میں بارہا مداخلت کی دھمکی دی اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے ایران کے حکمرانوں کو خبردار کیا ہے
اسرائیل ایران میں حکومت مخالف احتجاجات کے دوران کسی بھی امریکی عسکری کارروائی کے امکان کے پیشِ نظر انتہائی چوکس ہےç
یہ بات اس معاملے سے واقف تین اسرائیلی ذرائع نے بتائی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ روزوں میں بارہا مداخلت کی دھمکی دی اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے ایران کے حکمرانوں کو خبردار کیا۔
ہفتے کو ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ’مدد کے لیے تیار‘ ہے۔
وہ ذرائع، جو ہفتے کے آخر میں اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں موجود تھے، اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ اسرائیل کی اعلیٰ سطحی احتیاط عملی طور پر کیا معنی رکھتی ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان جون میں بارہ روزہ جنگ ہوئی، جس میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے۔
ہفتے کے روز ایک فون کال میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں امریکی مداخلت کے امکان پر بات کی۔
ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں نے بات کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کن موضوعات پر بات کی۔
جمعہ کو شائع ہونے والی دی اکنامسٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کے لیے خوفناک نتائج ہوں گے ، میرے خیال میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ایران کے اندر کیا ہو رہا ہے۔“