عراق، ترکیہ کے جیحان بندرگاہ سے تیل برآمد دوبارہ شروع کر رہا ہے

ہم نے، ترکیہ کی جیحان بندرگاہ کے لئے، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کے موضوع پر بغداد انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے: مسرور بارزانی

By
فائل تصویر: ترکیہ کی بحیرہ روم کی بندرگاہ سیہان پر تیل کے ٹینکوں کا ایک عمومی منظر، جو ادانا سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ / Reuters

عراقی  علاقائی کُرد انتظامیہ (KRG) نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے، ترکیہ کی جیحان بندرگاہ کے لئے، تیل کی برآمدات  دوبارہ شروع کرنے کے موضوع پر بغداد انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے"۔

ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں KRG کے وزیرِ اعظم مسرور بارزانی نے کہا ہے کہ "خطے نے ملک کو درپیش ہنگامی شرائط اور اس مشکل دَور سے نکلنے کے لئے ہم سب پر عائد ذمہ داری کے باعث اپنی پائپ لائن سے جلد از جلد تیل کی ترسیل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

عراق نیوز ایجنسی کے مطابق وزیرِ تیل ہیان عبد الغنی نے کہا ہے کہ خام تیل کی برآمدات بدھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے ترکیہ کے جیحان بندرگاہ کے ذریعے دوبارہ شروع ہو جائیں گی ۔

عراق وزارتِ تیل نے بروز اتوار جاری کردہ   بیان میں کہا تھا کہ "ہم، جنوبی برآمدی راستوں میں علاقائی بحران اور آبنائے  ہرمز میں نیویگیشن مسائل کے پیدا کردہ  خلل کے پیش نظر، بذریعہ شمالی پائپ لائن،  ترکیہ کی جیحان بندرگاہ کی طرف خام تیل کی برآمدات بحال کرنے کے لیے تیار ہے"۔

وزارت نے کہا ہے  کہ "عراقی  علاقائی کُرد انتظامیہ  کی وزارتِ معدنی ذخائر نے قبل ازیں  برآمدی پائپ لائن کو دوبارہ شروع کرنے سے انکار کیا اور ایسی متعدد شرائط عائد کی تھیں جو بغداد کی "خام تیل کی برآمدی کارروائیوں سے غیر متعلقہ تھیں۔"

وزارتِ تیل نے مزید کہا ہے کہ ہم نے کرد فریق کو بتا دیا ہے کہ  برآمدات کے دوبارہ آغاز کے ساتھ بیک وقت شکل میں ان شرائط پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ہم نے اس بارے میں بھی متنبہ کیا ہے کہ جاری خلل ہمیں، جنوبی برآمدات  کی بندش سے ہونے والے نقصان کی جزوی تلافی کے اہل  اہم مالی وسائل سے محروم کر دیں گے"۔   

بارزانی نے منگل کو جاری کردہ بیان میں  کہا  تھا کہ " درآمدات اور تجارت پر عائد پابندیوں  کے فوری خاتمے " کے لیے بغداد میں وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی اور پیداوار کے محفوظ شکل میں دوبارہ آغاز کے لئے تیل و گیس کمپنیوں کے لیے ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے اس عمل کو آسان بنانے میں ادا کردہ  کردار اور اس کی حمایت پر امریکہ کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

یہ پیش رفت  ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی طرف سے، 28 فروری سے جاری امریکی۔اسرائیلی حملوں کے ردِ عمل میں،آبنائے ہرمز کو بحری سیرو سفر کے لئے بند کئے جانے اور گلوبل انرجی کے بارے میں اندیشوں میں اضافے کے دور  میں سامنے آئی ہے۔  

واضح رہے کہ جنگ سے قبل آبنائے ہُرمز سے یومیہ  تقریباﹰ 20 ملین بیرل تیل گزرتا تھا۔ درّے کی بندش  نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

 ترکیہ میں امریکہ کے سفیر اور شام کے لیے خصوصی مندوب 'ٹام بارک' نے معاہدے کی وجہ سے اربیل اور بغداد کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایکس سے جاری کردہ بیان میں بارک نے کہا ہے کہ "ہم، اس حساس وقت میں توانائی کی برآمدات کو دوبارہ شروع کرنے اور خطے کی خوشحالی کو بہتر بنانے کی خاطر معاہدہ کرنے پر  اربیل اور بغداد کے کام کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں۔  ان کی جرات، محکم  تعاون اور سفارتی راستے سے وابستگی حقیقتاً انمول ہے"۔