امریکی اور کیوبائی حکام کی نئی سفارتی کوششوں کے دائرہ کار میں ہوانا میں ملاقات
وفد نے ریٹائرڈ کیوبائی لیڈر راؤل کاسٹرو کے پوتے سے ملاقات کی، اسٹیٹ سیکرٹری مارکو روبیو ،ہوانا کا دورہ کرنے والے وفدکا حصہ نہیں تھے ۔
ایک امریکی وفد نے حال ہی میں جزیرے کے ملک میں کیوبائی حکام سے ملاقات کی ہے جو کہ سفارتی کوششوں کی تجدید کا مظہر ہے۔ دوسری جناب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کی دھمکی دی ہے اور کیوبا کے رہنما نے اس ہفتے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کا ملک لڑنے کے لیے تیار ہے۔
محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار جسے عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی اور انہوں نے جمعہ کو حساس معاملے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ گزشتہ ہفتے ایک اہلکار نے ریٹائرڈ کیوبائی لیڈر راؤل کاسٹرو کے پوتے سے ملاقات کی ۔
اس اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی جانب سے کس شخص نے راؤل گیئرمو روڈریگِز کاسٹرو سے ملاقات کی، جن کے دادا کو سرکاری عہدہ نہ ہونے کے باوجود کیوبائی حکومت میں اثر و رسوخ رکھنے والا مانا جاتا ہے۔
ایک دوسرے امریکی اہلکار نے کہا کہ اسٹیٹ سیکرٹری مارکو روبیو ،ہوانا کا دورہ کرنے والے وفدکا حصہ نہیں تھے ۔
امریکی اہلکاروں نے پہلے بھی کہا تھا کہ روبیو، جو کیوبائی تارکینِ وطن کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور طویل عرصے سے کیوبا کے خلاف سخت موقف کے حامی رہے ہیں، ان کی فروری میں سینٹ کٹس اور نیوِس جزیرے میں نوجوان کاسٹرو سے ملاقات ہو ئی تھی۔
پچھلے ہفتے کی اس غیر معمولی سفارتی کوشش کے دوران، امریکی وفد نے کیوبا پر زور دیا کہ وہ اپنی معیشت اور حکمرانی کے طریقوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائے کیونکہ امریکہ خطے میں جزیرے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ 2016 کے بعد کیوبا میں امریکی عہدیدار کی پہلی پرواز تھی جو گوانٹانامو بے میں امریکی نیول بیس کے علاوہ کسی اور مقام پر اتری۔
کیوبا کے بحران میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے پس منظر میں امریکہ کی توانائی کے شعبے پر پابندی رہی ہے، جب کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی حکومت کو غیر موثر اور ظلم و ستم پر مبنی قرار دیا ہے۔
سزاؤں میں نرمی کے بدلے امریکی مطالبات میں سیاسی مظالم کا خاتمہ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جزیرے کی کمزور معیشت کی لبرلائزیشن شامل رہی ہے۔
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار نے کہا ، ان موضوعات کے ساتھ ساتھ، پچھلے ہفتے دونوں فریقین نے ایک امریکی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا جس کے تحت اسٹارلِنک سیٹلائٹ کنکشن کے ذریعے جزیرے کو مفت اور قابلِ اعتبار انٹرنیٹ فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔
ٹرمپ : کیوبا کے لیے نئی صبح عنقریب ہے
یہ مذاکرات اس کے بعد سامنے آئے جب ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف جنگ ختم ہونے کے بعد کیوبا پر توجہ مرکوز کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ"ہم شاید ایران کے معاملے کے اختتام کے بعد کیوبا کا رخ کریں" انہوں نے کیوبا کو 'ناکام ریاست' قرار دیا اور کہا کہ وہاں طویل عرصے سے بد انتظامی کا دور دورہ ہے۔'
جواب میں کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز-کانیل نے کہا کہ امریکہ کے پاس جزیرے پر فوجی حملہ کرنے یا انہیں برطرف کرنے کا کوئی معتبر جواز نہیں ہے، مگر اگر ضرورت پڑی تو ملک جنگ کے لیے تیار ہے۔
ڈیاز-کانیل نے کہا: "یہ وقت انتہائی کٹھن ہے اور ہمیں ایک بار پھر—جیسا کہ 16 اپریل 1961 کو ہوا تھا—سنجیدہ خطرات، بشمول فوجی جارحیت، کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس کی خواہش نہیں رکھتے، مگر یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے روکنے کی تیاری کریں اور اگر وہ ناگزیر ہو تو اسے شکست دیں۔"
یہ بات انہوں نے کیوبائی انقلاب کی سوشلسٹ فطرت کے اعلان کی 65ویں سالگرہ کی یاد منانے کے لیے سینکڑوں افراد کی شرکت سے نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب میں کہی۔
کیوبا کی وزارتِ خارجہ نے پچھلے ہفتے ہونے والی بات چیت کے بارے میں تبصرہ کے لیے فوری طور پر پیغامات کا جواب نہیں دیا۔
جمعہ کو، ٹرمپ نے کہا کہ کیوبا کے لیے 'نیا سویرا' آ رہا ہے اور یہ دلیل دی کہ امریکی 'طاقت' سات دہائیوں کے بعد جلد جزیرے میں تبدیلی لائے گی ۔
انہوں نے ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک تقریب میں حاضرین سے کہا: "اور بہت جلد، یہ عظیم طاقت ایک ایسے دن کو بھی جنم دے گی جس کا سات دہائیوں سے انتظار رہا ہے۔ اسے کیوبا کے لیے امید کی ایک نئی کرن کہا جاتا ہے۔ ہم کیوبا کے لیے ان کی مدد کریں گے۔"
کیوبائی نژاد امریکی کمیونٹیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان سے برا سلوک کیا گیا، جن کے خاندان مارے گئے اور بے رحمی کا نشانہ بنے۔'
انہوں نے مزید کہا: " دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔"