اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل: ایران میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاون کی تحقیقات کی جائیں

کیوبا، پاکستان، مصر اور چین نے اس منصوبے کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں جمعے کو ووٹنگ کرائی گئی۔ 25 ریاستوں نے حمایت 7 نے مخالفت  اور14 نے غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا۔

By
ایران کے مظاہروں کے دوران جلائی گئی ایک مسجد، تہران، ایران، 21 جنوری 2026۔ / Reuters

اقوامِ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کے مینڈیٹ میں توسیع کرنے اور مظاہرین پر حکام کی جانب سے کیے گئے پرتشدد کریک ڈاؤن کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی ایک قرار داد منظور کر لی۔

کیوبا، پاکستان، مصر اور چین نے اس منصوبے کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں جمعے کو ووٹنگ کرائی گئی۔ 25 ریاستوں نے حمایت 7 نے مخالفت  اور14 نے غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا۔

اس رائے دہی سے قبل، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہروں پر اپنی 'ظالمانہ سرکوبی' ختم کرے۔

انسان حقوق کے گروہوں کا  کہنا ہے کہ ہنگاموں کے دوران ہزاروں افراد، بشمول عینی شاہدین، ہلاک ہوئے، جنہیں وہ 1979 کے انقلاب کے بعد کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن قرار دیتے ہیں۔

ہائی کمشنر فولکر ترک نے جنیوا میں کونسل کے اجلاس میں کہا''میں ایرانی حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ  اس معاملے میں از سرِنو غور کریں، اور اپنی ظالمانہ سرکوبی کو ختم کریں'' انہوں نے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں میں قید افراد کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

ایرانی حکام نے ہنگامے اور ہلاکتوں کی ذمہ داری 'دہشت گردوں اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں' پر ڈالی ہے جنہیں جلاوطن مخالفین اور بیرونی حریف، امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہونے کا کہا جاتا ہے۔

کم از کم 50 ممالک نے جنیوا کے ادارے کے جمعہ کے خصوصی اجلاس کے مطالبے کی حمایت کی، جس کی شروعات آئس لینڈ، جرمنی اور برطانیہ سمیت چند ریاستوں نے کی تھی۔ گھانا اور فرانس بھی ایران کے کریک ڈاؤن پر تشویش ظاہر کرنے والوں میں شامل تھے۔

''یہ ایران کی معاصر تاریخ میں بدترین اجتماعی قتلِ عام ہے''، پیام اخوان، ایرانی-کینیڈین نژاد سابقہ اقوامِ متحدہ کے پراسیکیوٹر نے اجلاس میں کہا۔

انہوں نے 'نرنبرگ لمحے' کا مطالبہ کیا، جس سے مراد دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی رہنماؤں کے خلاف کیے گئے بین الاقوامی فوجداری مقدمات ہیں۔

لیکن جنیوا میں اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے کونسل کو بتایا کہ اس کا ہنگامی اجلاس غیر معتبر ہے۔

بحرینی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس خصوصی اجلاس اور اس کے بعد آنے والی قرارداد کی قانونی حیثیت یا جواز کو تسلیم نہیں کرتا''، اور ایران کے اس دعوے کو دہرایا کہ ہنگاموں میں تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم، مغربی سفارتی حلقے توقع رکھتے ہیں کہ جمعے کو ہونے والا اجلاس بآسانی اس تجویز کو منظور کر لے گا جس کے مطابق 2022 میں سابقہ احتجاجی لہر کے بعد قائم کیے گئے اقوامِ متحدہ کے تحقیقی مینڈیٹ کو دو سال کے لیے بڑھا دیا جائے۔

اس پیش کش میں اس تازہ ہنگامے سے جڑے جرائم کی فوری تحقیقات کا بھی کہا گیا ہے جو 28 دسمبر سے شروع ہوئی تھیں۔

تاہم، اقوامِ متحدہ کے فنڈنگ بحران کی وجہ سے، جس نے دیگر تحقیقات کو روک رکھا ہے، یہ واضح نہیں تھا کہ توسیع کے اخراجات کون اٹھائے گا۔