ایرانی عوام کے قتل کے ذمےدار ٹرمپ اور نیتین یاہو ہیں: علی لاریجانی

سابق پارلیمانی اسپیکر اور ایران کی اعلی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے X پر پوسٹ کیا کہ ہم ایرانی  عوام کے اہم قاتلوں کے نام ظاہر کرتے ہیں:  ایک  ٹرمپ  دوسرے  نیتن یاہو ہیں

By
علی لاریجانی / AP

 ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پرتشدد احتجاجات میں مداخلت کی تازہ دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ ایرانی شہریوں کے قتل کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔

ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے فورا بعد جس میں ایرانیوں کو حکومتی اداروں پر "قبضہ" کرنے کی ترغیب دی گئی، سابق پارلیمانی اسپیکر اور ایران کی اعلی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے X پر پوسٹ کیا کہ ہم ایرانی  عوام کے اہم قاتلوں کے نام ظاہر کرتے ہیں:  ایک  ٹرمپ  دوسرے  نیتن یاہو ہیں۔

ایرانی حکام نے اصرار کیا کہ انہوں نے جمعرات سے مسلسل کئی راتوں کے بڑے احتجاجات کے بعد ملک پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو 1979 کے انقلاب میں اقتدار میں آنے کے بعد قیادت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہیں۔

ملک حالیہ ہفتوں میں معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال  اور ایرانی کرنسی ریال کی تیزی سے قدر میں کمی کے باعث وسیع پیمانے پر احتجاج سے ہل گیا ہے۔

ٹرمپ  نے سی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو پھانسی دینا شروع کرے گی تو امریکہ "بہت سخت اقدامات" کرے گا، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اقدامات کیا ہوں گے۔

 ٹرمپ نے کہا کہ میں نے پھانسی کے بارے میں نہیں سنا اگر وہ انہیں لٹکا دیں تو آپ کو کچھ چیزیں نظر آئیں گی... اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم بہت سخت کارروائی کریں گے

دریں اثنا، ایکسیوس نے منگل کو رپورٹ کیا کہ  ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ہفتے کے آخر میں ایران کے معزول شاہ کے سب سے بڑے بیٹے سے بھی  ملاقات کی ۔

رضا پہلوی کے ساتھ مبینہ ملاقات ایران میں ملک گیر احتجاجات کے شروع ہونے کے بعد پہلا رابطہ تھا جسے تہران امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے بھڑکانے کا دعویٰ کرتا ہے۔

اسی منگل کو ایرانی اور قطری حکام نے امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے باوجود مذاکرات کیے۔

لاریجانی نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے فون پر بھی  بات کی۔

ایکس پر ایک بیان میں الثانی نے کہا کہ انہوں نے قطر کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو بہتر بنانے کے پرامن حل کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔

 یاد رہے کہ قطر  اس وقت مشکل کا شکار ہو گیا تھا جب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں دوحہ کے باہر العدید ایئر بیس  کو نشانہ بنایا تھا۔