امریکہ نے چار عرب ممالک کے سفر کو خطرناک قرار دے دیا
امریکہ وزارت خارجہ نے اردن، عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سفری خطرات کو تیسرے درجے تک بڑھا دیا
امریکہ نے بدھ کے روز اردن، عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے سفری خطرات کو تیسرے درجے تک بڑھا دیا اور مسافروں کو ان ممالک کے سفر پر نظر ثانی کی ہدایت کی ہے۔
یہ وارننگ امریکہ وزارتِ خارجہ کی نظر ثانی شدہ سیاحتی وارننگ میں شامل ہے۔ بحرین، کویت، اسرائیل اور قطر جیسے ممالک بھی سیاحت کے لئے اسی درجے کے خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔
مصر کے سیاحتی خظرے کو دوسرے درجے پر برقرار رکھا گیا اور مسافروں سے 'مزید احتیاط 'کی اپیل کی گئی ہے۔
دریں اثنا، بحرین میں امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ " معمول کی تمام قونصلر خدمات کو تا حکمِ ثانی معطل کر دیا گیا ہے"۔
قونصل خانے نے بحرین میں موجود امریکی شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ 'اگر محفوظ ہو تو' فوراً ملک چھوڑ دیں۔
پاکستان کے بارے میں سیاحتی وارننگ
بدھ کو جاری کئے گئے ایک سرکاری بیان کے مطابق امریکی حکومت نے سکیورٹی خطرات کے باعث لاہور اور کراچی کے قونصل خانوں کے غیرضروری عملے اور ان کے خاندانوں کو قونصل خانوں کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے۔
تاہم، نظر ثانی شدہ سفری مشورے کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
28 فروری کو ایران پر امریکی ۔ اسرائیلی حملوں اور نتیجتاً ایران کے دینی لیڈر علی خامنہ ای اور زیادہ تر اسکول کی بچیوں سمیت 786 افراد کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناو میں اضافہ ہو گیا ہے۔
تہران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈّوں پر ڈرون اور میزائل حملے کر کے جواب دیا ہے۔ ان حملوں میں 6 امریکی سروس ممبران ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔
امریکہ نے سفری مشورے میں کہا ہے کہ "ایران کی طرف سے ڈرون اور میزائل حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے اور تجارتی پروازوں میں بھی نمایاں خلل پڑ رہا ہے"۔
خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں امریکہ مخالف پُرتشدد مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔اس سے قبل، پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شمال مغربی شہر 'پشاور' میں واقع ہے قونصل خانے کی بھی عارضی بندش کا اعلان کیا تھا۔