مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
شام دہشتگردی کا حامی ملک نہیں رہا:امریکہ
شام نے بدھ کے روز امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ملک کو 'دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں' کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس اقدام کو دوطرفہ تعلقات میں ایک "اہم پیش رفت" قرار دیا ہے
شام دہشتگردی کا حامی ملک نہیں رہا:امریکہ
شام۔امریکہ / AP

شام نے بدھ کے روز امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ملک کو 'دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں' کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس اقدام کو دوطرفہ تعلقات میں ایک "اہم پیش رفت" قرار دیا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی کانگریس کو اس فیصلے کی باضابطہ اطلاع دینے کا خیرمقدم کیا، جو انہوں نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں شام کے صدر احمد شراع کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بعد جاری کی تھی۔

وزارت نے اصرار کیا کہ یہ فیصلہ "شام اور امریکہ کے تعلقات میں مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک اہم پیش رفت ہے"۔

وزارت نے مزید کہا کہ اس حیثیت کے خاتمے سے، پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اقتصادی بحالی کی توقعات بڑھیں گی، تعمیرِ نو میں آسانی ہوگی، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور علاقائی سلامتی و استحکام میں مدد ملے گی۔

وزارت نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی امید کا بھی اظہار کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط اور امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز علی الصبح بتایا کہ ٹرمپ نے کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے کہ وہ 45 دن کی نوٹس کی مدت کے بعد شام کو "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک" کی فہرست سے نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

روبیو نے اپنے بیان میں کہا، "یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے شامی عوام کو ایک عظیم قوم بننے کا موقع دینے کے لیے اٹھایا گیا ایک اور تاریخی قدم ہے"۔

روبیو نے مزید کہا، "شام پر سے پابندیاں ہٹانے سے بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی، شام کو دوبارہ تعمیرِ نو کا موقع ملے گا اور شامی عوام کے لیے ایک نیا باب شروع ہو گا"۔

یہ اعلان انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ٹرمپ اور شراع کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے؛ امریکی صدر نے اس ملاقات میں اشارہ دیا تھا کہ شام کو اس فہرست سے نکالے جانے کے قوی امکانات ہیں۔

شام 1979 سے واشنگٹن کی "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں" کی فہرست میں شامل تھا۔

بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ کی جانب سے لگائی گئی اکثر پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں، تاہم یہ درجہ بندی ملک کی اقتصادی بحالی کی راہ میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک بنی ہوئی تھی۔

 



 

دریافت کیجیے
امریکی افواج کا جنوبی ایران میں اہداف پر فضائی حملہ
ایران نے ہرمز بند کر دیا، ہمسایہ ممالک پر حملے
ایران کے سپریم لیڈر نے علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کی عہد کیا
خامنہ ای کی ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کے وقت انتقام لینے کا قسم کھائی گئی
ایران کے بوشہر کے ایٹمی بجلی گھر کے اردگرد کا علاقہ امریکی حملے کا نشانہ بنا ہے: ریاستی میڈیا
ایران کا امریکہ کو انتباہ: صرف تہران ہی آبنائے ہرمز کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے
ایران: مغالطہ آمیز کوشش کا فوری جواب دیا جائیگا
ایران کی طرف سے اسلام آباد فائر بندی مفاہمتِ یادداشت کی خلاف ورزی پر امریکہ کی مذمت
امریکہ  نے ایران پر تازہ حملوں کی لہر شروع کر دی
ایران نے آبنائے ہر،مز میں تجارتی بحری جہازوں پر میزائل داغے: رپورٹ
تہران میں خامنہ ای کی رسمِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران میں شروع، یجوم انتقام لینے کے نعرے بلند کر رہا ہے
آیت اللہ علی خامنہ ای کا  تابوت  تہران پہنچ گیا
اسرائیل نے امریکہ۔ایران معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے عراقچی اور قالیباف کو ہدف بنانا چاہا تھا
امریکا اور ایران کے مابین غیر براہ راست مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے:قطر
اسرائیل کی شام پر گولہ باری
ایران کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے:وینس
دوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات،ایران نے تردید کردی
غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کا 100 حساس مقامات پر قبضے کا منصوبہ
سعودی عرب: ہیلی کاپٹر حادثے میں 14 افراد ہلاک