پینٹاگون نے امریکی فوج کے سربراہ کو ریٹائر اور دو جرنیلوں کو معزول کر دیا
وزارتِ دفاع، امریکی قوم کی دہائیوں پر محیط خدمات کی وجہ سے، جنرل جارج کی شکر گزار ہے: پینٹاگون
پینٹاگون نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں جنرل رینڈی اے۔ جارج کی، فوج کے 41ویں چیف آف اسٹاف کے عہدے سے، فوری ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔
اپنے مختصر بیان میں وزارتِ دفاع نے جارج کی دہائیوں پر محیط عسکری خدمات کو سراہا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے کہا ہے کہ "وزارتِ دفاع، امریکی قوم کی دہائیوں پر محیط خدمات کی وجہ سے، جنرل جارج کی شکر گزار ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں"۔
اس سے پہلے، سی بی ایس نیوز نے شائع کردہ خبر میں اطلاع دی تھی کہ امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جنرل جارج سے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے اور ریٹائر ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر میں فیصلے سے واقف ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہیگسیتھ اس عہدے پر ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی فوج وژن کو نافذ کرسکے۔
جارج نے 2021۔2022 کی بائیڈن انتظامیہ کے دوران اس دور کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے سینئر فوجی معاون کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور 21 ستمبر 2023 کو بطور چیف آف اسٹاف ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
عام طور پر فوج کا چیف آف اسٹاف چار سالہ مدت کے لیےمنتخب ہوتا ہے۔
مزید دو جرنیل برطرف
تین امریکی حکام نے کہا ہے کہ ہیگسیتھ نے جمعرات کو مزید دو سینئر آرمی جرنیل برطرف کر دیئے ہیں۔
حکام کے مطابق معزول کئے گئے جرنیلوں میں سے ایک برّی فوج کے ہیڈ بشپ 'میجر جنرل ولیئم گرین جونئیر' اور آرمی کے تبدیلی و تربیتی کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل 'ڈیوڈ ہوڈن' ہیں۔