امسال موسم گرما میں یورپی براعظم میں ریکارڈ کی گئی چار بڑی اور مسلسل آنے والی ہیٹ ویوز ہزاروں اموات کا سبب بنیں۔
محض براعظم کے تقریباً نصف حصے کا احاطہ کرنے والی اور ابھی حتمی نہ ہونے والی سرکاری معلومات کے مطابق، معمول کے ادوار کے مقابلے میں کم از کم 35,000 افراد اضافی طور پر جاں بحق ہوئے۔ خصوصاً جرمنی، فرانس اور اسپین میں اضافی اموات کی تعداد 25,000 سے زائد ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ درجہ حرارت کو براہِ راست موت کا سبب کے طور پر عموماً درج نہیں کیا جاتا اور اگست کے اعداد و شمار ابھی مکمل طور پر سسٹم میں شامل نہیں ہوئے، اس لیے حتمی تعداد کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔
جرمنی اور اسپین میں تاریخی ریکارڈ ٹوٹے
انتہائی گرمی کے سبب سب سے زیادہ اموات جرمنی میں ہوئیں۔ رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اپریل کے اوائل سے اگست کے اوائل تک تقریباً 14,000 افراد شدید گرمی کی وجہ سے جان سے گئے۔ صرف جون کے آخری ہفتے میں 9,600 اموات درج کی گئیں، اور یہ جرمنی کی تاریخ کا سب سے مہلک موسمِ گرما تھا۔
اسپین میں کارلوس سوئم ادارہ صحت نے مئی سے اب تک تقریباً 5,000 افراد کے گرمی کی لہر کی وجہ سے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے۔ اس طرح اسپین نے 2022 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ گرمی سے متعلق اموات درج کیں۔
فرانس، اٹلی اور برطانیہ میں اموات میں اضافہ جاری
فرانس میں سینکڑوں موسمیاتی اسٹیشنوں پر 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا؛ مئی کے آخر سے جولائی کے آخر تک 7,000 سے زائد اضافی اموات رپورٹ ہوئیں۔ تاہم ابتدائی اعداد و شمار صرف الیکٹرانک ڈیتھ سرٹیفکیٹس پر مبنی ہیں، اس لیے اس تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔
مقامی حکام کے ذریعے اعداد و شمار جمع کرنے والے اٹلی کے ایک ادارے کے اندازے کے مطابق مجموعی جانِ بحق ہونے والوں کی تعداد 5,000 سے 8,000 کے درمیان ہوسکتی ہے۔
برطانیہ میں مئی اور جون کی ہیٹ ویوز کے باعث تقریباً 2,900 افراد کے ہلاک ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
بیلجیم، نیدرلینڈز، پولینڈ اور سوئٹزرلینڈ جیسے دیگر یورپی ممالک میں بھی اموات کی شرح میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گرمی دائمی بیماریوں کو بڑھاتی ہے
ماہرینِ صحت کے مطابق شدید گرمی عام طور پر دل و عروق، تنفسی اور گردوں کے امراض جیسے موجودہ دائمی مسائل کو بڑھا کر موت کا سبب بنتی ہے، اسی لیے حتمی اعداد و شمار ماہوں بعد واضح ہوتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق آب و ہوا کے بحران کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور آبادی کے عمر رسیدہ ہونے کے نتیجے میں گزشتہ 20 سالوں میں یورپی خطے میں گرمی سے متعلق اموات کی شرح میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
براعظم بھر میں 80 ملین سے زائد لوگوں کے رہائشی علاقوں میں درجہ حرارت کا 40 ڈگری سے اوپر چلے جانا ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی کے عوامی صحت پر براہِ راست خطرے کو واضح کرتا ہے۔



















