افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات میں اضافے کے وقت پاکستان کا قندھار پر حملہ
حملے میں قندھار کے قریب ایک سرنگ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان اسے استعمال کرتے تھے۔
پاک فوج نے جنوبی افغانستان میں فوجی تنصیبات اور "دہشت گرد ٹھکانے" پر حملے کیے، جو عبوری طالبان حکومت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہیں۔
پاکستان میں سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کارروائی کا نشانہ قندھار میں ایک تکنیکی معاونت کا مرکز اور سازوسامان رکھنے کی ایک گودام تھا۔
ایک اور حملے میں قندھار کے قریب ایک سرنگ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان اسے استعمال کرتے تھے۔
پاکستانی لڑاکا طیارے افغانستان کی فضاوں میں
قندھار کے رہائشیوں نے کہا کہ وہ رات کے دوران آسمانوں پر لڑاکا طیارے دیکھتے رہے اور دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
ایک رہائشی نے بتایا کہ ایک طیارہ اس پہاڑ کے اوپر سے گزرا جہاں فوجی تنصیب موجود تھی، اور پھر ایک دھماکے نے علاقے کو شعلوں سے روشن کر دیا۔
قندھار کے جنوب مشرق میں واقع اسپن بولدک سے بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ سرحد سے متصل خوست کے حکام نے کہا ہے کہ ہفتے کی رات گئے جھڑپیں ہوئیں۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حملوں سے محدود نقصان ہوا ہے اور قندھار میں ایک منشیات سے نجات کے مرکز اور ایک خالی شپنگ کنٹینر کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ"وہ جگہیں جن کے بارے میں وہ بات کر رہے ہیں وہ ان دونوں مقامات سے کافی دور ہیں"، انہوں نے اس بیان کے ساتھ پاکستان کے بیانیے کو مسترد کیا۔
یہ حملے اس کے ایک روز بعد ہوئے جب پاکستان نے افغانستان سے بھیجے گئے ڈراون حملوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ کم از کم تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں راولپنڈی میں ملک کا فوجی ہیڈکوارٹر، بھی شامل تھا۔
پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے دفتر نے افغان طالبان پر شہریوں کو نشانہ بنا کر ایک “سرخ لکیر” عبور کرنے کا الزام لگایا اور بدلے کا عندیہ دیا۔
اسلام آباد نے گزشتہ ماہ پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کے ایک سلسلے کے بعد افغانستان میں شدت پسند گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ طالبان حکومت نے افغان علاقے کو شدت پسندوں کے زیرِ استعمال ہونے کی تردید کی ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے صرف انتہا پسندوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں دونوں فریقوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں تیز ہو گئی ہیں، جس سے تجارتی راستے متاثر ہوئے اور سرحد کے قریب رہنے والے لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں معاونت مشن کے مطابق، بڑھتے ہوئے تشدد کے نتیجے میں 26 فروری سے اب تک کم از کم 75 عام شہری ہلاک اور 193 زخمی ہوئے ہیں۔