داعش کے دہشتگردوں کو رہا کروانے کا الزام بے بنیاد ہے:حکومت ترکیہ

ترک حکومت کے سینٹر فار کمبیٹنگ ڈس انفارمیشن نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہےکہ داعش  کے دہشت گردوں کو شامی فوج نے ترک حمایت میں رہا کیا ہے

By
شام -ترکیہ / Reuters

ترک حکومت کے سینٹر فار کمبیٹنگ ڈس انفارمیشن نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہےکہ داعش  کے دہشت گردوں کو شامی فوج نے ترک حمایت میں   رہا کیا ہے ۔

مرکز نے پیر کے روز ترک سوشل میڈیا پلیٹ فارم NSosyal پر کہا کہ  یہ ایک معروف اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ترکیہ وہ ملک ہے جس نے خطے میں داعش کے خلاف سب سے  زیادہ جنگ لڑی ہے ۔

ادارے   نے شامی  عوام سے  سے اپیل کی  ہے کہ وہ ایسے بے بنیاد الزامات کو تسلیم نہ کریں جن کے ساتھ ہم صدیوں سے ایک ہی  خطے میں   مشترکہ اقدار  کے سائے تلے   رہ رہے ہیں۔

 یہ بیان شمال مشرقی شام میں کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے جہاں دمشق حکومت  نے YPG دہشت گرد گروپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ حسکہ صوبے کی الشدادی جیل سے داعش کے قیدیوں  کو رہا کروا رہا ہے۔

 شام کی وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ واقعہ ایک سنگین سیکیورٹی خلاف ورزی ہے جو قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا  ہے ۔

شامی عرب نیوز ایجنسی (سانا) کے مطابق، شامی  فورسز نے الشدادی میں داخل ہو کر جیل  کا کنٹرول سنبھال لیا ہے  جبکہ  اُس نے فرار ہونے والے داعش عناصر کو گرفتار کرنے کے لیے آپریشن شروع کیے اور علاقے میں کرفیو نافذ کیا۔

شامی حکومت نے "دہشت گردی کی فائل" کو سیاسی یا سیکیورٹی بلیک میل کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا ہے، اور YPG کے حکومتی بازو پر داعش کے خطرے کا فائدہ اٹھا کر کنٹرول برقرار رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

دمشق نے کہا کہ وہ بین الاقوامی فریم ورک کے اندر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور خبردار کیا کہ کسی بھی جیل سیکیورٹی خلاف ورزی کی ذمہ داری ان فورسز پر عائد ہے جو اس وقت ان سہولیات پر قابض ہیں۔