ایران نے خامنہ ای کےفرزند مجتبی کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا — ایرانی میڈیا
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای "اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تیسرے رہنما کے طور پر، مجلسِ خبرگان کے معزز نمائندوں کے فیصلہ کن ووٹ کی بنیاد پر مقرر اور متعارف کرائے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے ملک کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد علی خامنہ ای کی جگہ نامزد کیا ہے ۔
مجتبیٰ، جو پاسدارانِ انقلاب سے قربت رکھنے والے درمیانے درجے کے ایک عالم ہیں، طویل عرصے سے ایران کی حکمران اشرافیہ کے بعض حلقوں کی نظر میں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھے جاتے تھے ۔
اگرچہ ایران کے حکمران نظریے میں وراثتی جانشینی کے اصول کی مخالفت کی جاتی ہے، ان کے پاس IRGC اور ان کے مرحوم والد کے اب بھی بااثر دفتر میں مضبوط حامی موجود ہیں۔
ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای "اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تیسرے رہنما کے طور پر، مجلسِ خبرگان کے معزز نمائندوں کے فیصلہ کن ووٹ کی بنیاد پر مقرر اور متعارف کرائے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ روحانی ادارے نے نئے رہنما کے انتخاب میں "لمحہ بھر کے لیے بھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا"۔
مزاحمت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ "اناڑی" ہے اور انہیں ایران پر حکمرانی کرنے والے کے بارے میں ہماری رائے لینی چاہیے۔
انہوں نے اعلان سے پہلے ABCنیوز کو بتایا تھا کہ"اگر اسے ہماری منظوری نہ ملی تو وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا۔"
ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے کہا کہ مجتبیٰ موجودہ حساس حالات میں ملک کی قیادت کر سکتے ہیں اور نئے اعلیٰ رہنما کے گرد یکجہتی کا مطالبہ کیا۔
ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے بھی کہا کہ وہ نئے اعلیٰ رہنما کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہیں۔