اسرائیل: عسکری امداد سے لدا ہزارواں طیارہ تل ابیب پہنچ گیا ہے

اس نئی فوجی امداد کے ساتھ 8 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کو پہنچایا گیا کُل فوجی کارگو 120,000 ٹن سے زیادہ ہو گیا ہے: اسرائیل وزارت دفاع

By
4 مارچ 2024 کو جنوبی اسرائیل میں ایک فضائی اڈے کے رن وے پر امریکی ساختہ اسرائیلی F-16 لڑاکا طیارے دیکھے گئے۔ / Reuters

اسرائیل  وزارتِ دفاع  نے کہا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کے آغاز کے بعد سے مغربی ممالک کی طرف سے  جاری عسکری امداد کے سلسلے کا  ہزارواں طیارہ اسرائیل پہنچ گیا ہے۔

 اس  نئی فوجی امداد کے ساتھ  8 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کو پہنچایا گیا کُل فوجی کارگو 120,000 ٹن سے زیادہ ہو گیا ہے۔

یہ بیان بروز بدھ اور ایسے وقت پر جاری کیا ہے کہ  جب غزہ جنگ کے دوران امریکہ تل ابیب کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہےلیکن  بعض مغربی حکومتیں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کر رہی ہیں اور ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیاں عائد کر رہی ہیں۔

اسپین نے ستمبر میں شاہی فرمان کے ذریعے اسرائیل پر ہتھیاروں کی مکمل پابندی عائد کی تھی اور گذشتہ سال برطانیہ، جرمنی اور کینیڈا نے ہتھیاروں کی فراہمی محدود کر دی تھی ۔

اسرائیل  وزارتِ دفاع   نے  کہا ہےکہ جنگ کے فوراً بعد فوجی ساز و سامان ، ہتھیاروں اور ایمونیشن  کی ترسیل کا پُل قائم کر دیا گیا تھا اور اس ترسیلی زنجیر کے ہزارویں طیارے کی اسرائیل میں لینڈنگ کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ "اسرائیل کی تاریخ میں ایسے  آپریشن کی کوئی مثال نہیں ملتی"۔

وزارت نے کہا کہ اس طیارے میں بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان تھا اور اسے دفاعی وزارت کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عامر بارام نے وصول کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا، “اب تک 1,000 طیاروں اور تقریباً 150 بحری جہازوں کے ذریعے 120,000 ٹن سے زیادہ فوجی سازوسامان، گولہ بارود، اسلحہ  نظام اور حفاظتی سازوسامان اسرائیل منتقل کیا جا چکا ہے ۔”

بیان میں اسلحہ بھیجنے والے ملک کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم  یہ کہا گیا کہ یہ  ترسیلی آپریشن  اسرائیل وزارتِ دفاع کے بین الاقوامی دفاعی نقل و حمل یونٹ، امریکہ اور برلن میں وزارتِ دفاع کےنمائندہ دفاتر،  فوج کے شعبہ منصوبہ بندی و قوت سازی اور اسرائیل فضائیہ کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں قائم کوئنسی انسٹی ٹیوٹ برائے ذمہ دار ریاستی عمل کی اکتوبر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کے آغاز کے بعد سے امریکہ نے اسرائیل کو  کم از کم 21.7 بلین ڈالر کی عسکری امداد فراہم کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے بعد سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے اسرائیل کو  17.9 بلین ڈالر کی اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں  3.8 بلین ڈالر مالیت کی عسکری امداد مہیا کی ہے ۔ اس میں سے کچھ امداد پہلے ہی پہنچائی جا چکی ہے جبکہ باقی رقم آنے والے برسوں میں پہنچے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل غزہ میں اپنی نسل کشی جاری نہیں رکھ سکتا۔

اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج  غزہ میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل ، تقریباً 70,000 افراد کو قتل اور 170,000 سے زائد کو زخمی کر چُکی ہے۔ اسرائیلی فوج  نہایت سفّاکی سے ماحولیاتی قتل عام بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور  پورے  علاقے کو ملبے میں تبدیل کر چُکی ہے۔