آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کے بحران کے خطرات اور پیٹرول کے نرخ
یہ تنگ مگر اسٹریٹجک آبی گزرگاہ، جو دنیا کے تقریباً ایک تہائی سے زیادہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کو راستہ فراہم کرتی ہے، سےٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے
دنیا حالیہ دور کے سب سے بڑے تیل کی ترسیل بحران سے نبرد آزما ہے کیونکہ ایران نے 28 فروری کو اسرائیل-امریکہ کے حملوں کے جواب میں کیے گئے جوابی حملوں کے بعدآبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند رکھا ہوا ہے۔
یہ تنگ مگر اسٹریٹجک آبی گزرگاہ، جو دنیا کے تقریباً ایک تہائی سے زیادہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کو راستہ فراہم کرتی ہے، سےٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور جنگ سے پہلے کی تعداد کے مقابلے میں اس کا حجم 10 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔
اس وجہ سے عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور سپلائی چین میں اتار چڑھاؤ کے ردِ عمل میں تیل کی قیمتیں بلند ی کی طرف مائل ہیں۔
برینٹ خام تیل تقریباً $105 فی بیرل کے قریب ہے، جو بحران کے عروج کے دوران تقریباً $120 کے قریب ریکارڈ کردہ بلند ترین سطح سے کم ہے، اور یہ 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح تھی۔
اس بندش کے باعث عالمی منڈیوں میں یومیہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کا فقدان ہے۔
جواباً، عالمی توانائی ایجنسی نے اسٹریٹجک ریزرو سے 400 ملین بیرل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو عالمی مانگ کے لیے صرف تقریباً چار دن کا احاطہ کرتا ہے۔
جاری تنازعے سے پیدا ہونے والی وسیع علاقائی عدم استحکام کے باوجود تہران اپنی توانائی تجارت کو رواں رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
ایران نے نہ صرف ہرمز کے راستے اپنے خام تیل کی برآمدات برقرار رکھی ہیں بلکہ جنگ کے شروع ہونے کے بعد بعض اوقات اپنے برآمدی حجم میں اضافہ کیا ہے۔
مارچ کے اوائل تک ایرانی تیل کی ترسیل مستحکم رہی، روزانہ برآمدات اوسطاً کم از کم 2 ملین بیرل رہیں۔ مہینے کے پہلے 11 دنوں کا مجموعی حجم اندازاً 13.7 ملین سے 16.5 ملین بیرل کے درمیان ہے۔
تہران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو — جو زیادہ تر چین کی طرف جاتی ہے — نقصان پہنچانے کے لیے امریکہ نے ایران کے اہم جزیرۂ خارک کے تیل ہب پر حملے کیے، جس سے عالمی تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔
ایشیا کے ممالک سب سے زیادہ متاثر
چین، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ہے، اپنے تیل کے 40 فیصد سے زائد اور LNG کی 30 فیصد ترسیلات کے بلاک ہونے کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ 50 سے زائد بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔
بحران سے نمٹنے کے لیے بیجنگ نے ایندھن کا ذخیرہ کر لیا ہے، ایران سے محفوظ گزر کی درخواست کی ہے اور قلت کے انتظام کے لیے ایندھن کی برآمدات پر پابندی لگا دی ہے۔
ہندوستان، جو اپنے پیٹرول کی درآمدات کا 70 فیصد اور LNG کا آدھے سے زیادہ حصہ خلیج سے درآمد کرتا ہے، روپیے پر دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے۔
ہندوستان کی روزانہ خام تیل کی کھپت 5.5 ملین بیرل ہے۔
عالمی ترسیل کو برقرار رکھنے اور قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے کے مقصد سے امریکہ نے بھارت کو 30 دن کے لیے روسی تیل خریدنے کی اجازت دی ہے۔
جاپان اور جنوبی کوریا، جو بالترتیب 75 فیصد اور 70 فیصد تیل مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتے ہیں، کے پاس دستیاب ذخائر محض چند ہفتوں کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا میں پٹرول اسٹیشنوں نے ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کی رپورٹ دی ہے، جبکہ حکام نے اعلان کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں پر حد مقرر کر دی جائے گی۔
دیگر ممالک، جن میں تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش شامل ہیں، شدید ایندھن کی قلت، بجلی کٹوتیوں اور صنعتی سست روی کا سامنا کر رہے ہیں۔
یورپ اور افریقہ میں ایندھن کی قلت
یورپ کو بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کا سامنا ہے، جو خلیجی ریفائنریز کی بندشوں سے سنگین تر ہو گیا ہے، تاہم توانائی کے متنوع ذرائع نے اس اثر کو جزوی طور پر کم کیا ہے۔
ہرمز کی بندش صرف خام تیل کی فراہمی کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ ایندھن کی ترسیلات کو بھی محدود کر رہی ہے۔
خلیجی ریفائنریز کو اپنے تیار کردہ ایندھن کو منتقل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، جن میں کویت کی بڑی 615,000-bpd ال زور ریفائنری بھی شامل ہے، جو یورپ اور افریقہ کے لیے (jet fuel) کا اہم ذریعہ ہے۔
سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی پیدا کرنے والوں نے پیداوار کم کی ہے اور اہم ریفائنریز اور ٹرمینلز پر فورس ماژور کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ سے برآمدات مزید کم ہو گئی ہیں۔
امریکہ، جو خلیجی تیل کا نسبتاً چھوٹا درآمد کنندہ ہے، پٹرول اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہا ہے۔ جواباً، ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہنگامی اقدامات کے تحت 172 ملین بیرل تیل کی فراہمی کی اجازت دی ہے۔
عالمی شپنگ لاگتیں، انشورنس اور سپلائی چین میں خلل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات توانائی مارکیٹس کے علاوہ اجناس، دھاتوں اور دیگر اشیائے خوردونوش تک بھی پہنچ رہے ہیں۔