امریکہ-ایران جنگ کا نتیجہ، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں کے بڑھنے پر مصر نے منگل کو ایندھن کی قیمتیں 17 فیصد تک بڑھا دی ہیں
ایران نے سعودی عرب اور کویت کی طرف ڈرون داغے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے دورانیے کے بارے میں متضاد اشارے دیے، جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی اور منڈیاں جھٹکے کھا رہی ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس نے مملکت کے تیل سے مالا مال مشرقی علاقے کے اوپر ڈرون تباہ کیے جبکہ کویت میں نیشنل گارڈ نے کہا کہ اس نے شمالی اور جنوبی علاقوں میں چند ڈرون گرا دیے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی کہا کہ اس کے دفاعی نظام ایران سے داغے گئے میزائل اور ڈرونز کو فعال طور پر روک رہے ہیں۔
وزارت نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس کے ذریعے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا فضائی دفاع اس وقت ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون کے خطرات سے نمٹ رہا ہے۔'
ایرانی حملے خلیجی ہمسایہ ریاستوں پر اس وقت ہوئے جب پیر دیر گئے ٹرمپ نے ریپبلکن قانون سازوں کو بتایا کہ جنگ ممکنہ طور پر 'مختصر دورانیہ کی ہوگی، لیکن چند گھنٹوں بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دھمکی دی کہ اگر ایران نے ہرمز کی گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکہ حملوں میں ڈرامائی اضافہ کر دے گا۔
ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں، جو ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہوئے، انقلابِ پاسداران کے ایک ترجمان علی محمد نائینی نے کہا، 'ایران خود طے کرے گا کہ جنگ کب ختم ہوتی ہے۔'
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں کے بڑھنے پر مصر نے منگل کو ایندھن کی قیمتیں 17 فیصد تک بڑھا دیں۔
قاہرہ کے مطابق عوامی نقل و حمل کے لیے بہت زیادہ استعمال ہونے والے ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت 17 فیصد سے زائد بڑھ گئی۔ 92 آکٹین پٹرول کی قیمت 15 فیصد جبکہ 95 آکٹین پٹرول 14 فیصد بڑھی۔
جنگ نے مصر کو سخت متاثر کیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا عرب ملک ہونے کی حیثیت سے مصر درآمد شدہ ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مصری پاؤنڈ ریکارڈ کم سطح پر چلا گیا اور پیر کو ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 52 سے زائد پر ٹریڈ کیا گیا۔
جنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کا اعلان کیا، جن میں سرکاری بیرونِ ملک دوروں میں کمی اور مختلف شعبوں میں ایندھن کے استعمال میں کٹوتی شامل ہیں۔
اگر ایران تیل بردار جہاز روک دے تو ٹرمپ نے سخت جواب دینے کا وعدہ کیا ہے ۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران ہرمز کی گزرگاہ میں تیل کی ترسیل کو روکنے کا سلسلہ جاری رکھے گا تو امریکہ ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی کرے گی۔
مزید برآں، ہم ایسے آسانی سے تباہ کیے جا سکنے والے اہداف کو نشانہ بنائیں گے جو ایران کو ایک قوم کے طور پر دوبارہ قائم کرنا ناممکن بنا دیں گے — موت، آگ اور قہر ان پر حکومت کرے گی — مگر میں امید کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ ایسا نہ ہو!'
صدر نے کہا کہ ان کی دھمکی چین جیسی دیگر ریاستوں کے لیے 'تحفہ' ہے، کیونکہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر منحصر ہیں۔