ایران-امریکہ مذاکرات استنبول میں ہونے کا امکان
ایک عرب عہدیدار نے حساس مذاکرات پر بات چیت کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں اور سینئر ایرانی حکام کے درمیان ایک ملاقات جمعے کو ترکیہ میں ہوگی
ایک عرب عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقاتیں ممکنہ طور پر 6 فروری کو ترکیہ میں ہوں گی۔
واضح رہے کہ تہران نے جوہری مذاکرات کی از سرِ نو شروعات کا مطالبہ کیا تھا اور واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اس کے نتائج مرتب ہوں گے۔
ایک عرب عہدیدار نے حساس مذاکرات پر بات چیت کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں اور سینئر ایرانی حکام کے درمیان ایک ملاقات جمعے کو ترکیہ میں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ ملاقات ترکیہ، مصر، قطر اور عمان کی مداخلت کے بعد طے پائی تھی۔
دریں اثنا، ایک امریکی عہدیدار نے پیر کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعے کو استنبول میں ممکنہ جوہری معاہدے اور دیگر امور پر بات کرنے کے لیے ملنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے پہلے کہا تھا کہ تہران جلد ہی امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی شرائط پر غور کر رہا ہے اس کے بعد دونوں فریقوں نے طویل المدتی جوہری تنازعے پر دوبارہ سفارتکاری بحال کرنے کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا اور خطے میں نئی جنگ کے خدشات کو دور کرنے کی نیت ظاہر کی ہے ۔
جمعے کی ممکنہ ملاقات کی پہلی رپورٹ ایکسِئَس نیوز سائٹ نے شائع کی ہیں جس میں کہا گیا کہ ترکیہ، پاکستان، قطر، مصر، عمان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی بھی اس سربراہی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔
دریں اثنا ٹرمپ نے اس قیامت خیز منظر کو اُبھارتے رہنے کا سلسلہ جاری رکھا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو شاید بری چیزیں ہوں گی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت ایران کی جانب جانے والے بحری جہاز ہیں جبکہ ہماری ایران کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے لیکن فی الوقت ہم اُن سے بات کر رہے ہیں اور اگر ہم کچھ طے کر سکیں تو یہ بہت اچھا ہوگا اور اگر ہم نہ کر پائے تو شاید بری چیزیں ہوں گی۔
یاد رہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ تہران سفارتکاری کے لیے تیار ہے۔
عراقچی نے پیر کو ایران کے 1979 کے انقلاب کے معمار روح اللہ خمینی کے مزار کے دورے کے دوران کہا کہ سفارتکاری کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں، مجھے امید ہے کہ ہم جلد نتائج دیکھیں گے۔'
اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے والےایران کے دشمن، جو چاہے پچھلے سال کی 12 روزہ جنگ کے ذریعے ہو یا حالیہ احتجاجات کے ذریعے اب سفارتکاری کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی فریق آج سفارتکاری کی بات کر رہے ہیں حالانکہ ایران ہمیشہ اس آپشن کے لیے تیار رہا ہے بشرطیکہ باہمی احترام اور مفادات کا لحاظ رکھا جائے۔