دنیا
1 منٹ پڑھنے
افغانستان میں تین دنوں میں برفباری اور بارشوں سے 60 سے زائد افراد لقمہ اجل
حکام کا کہنا ہے کہ برف نے سالنگ ہائی وے بند کر دی ہے، جس سے 360 خاندانوں کو متاثر کیا گیا ہے اور سفر کے لیے انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔
افغانستان میں تین دنوں میں برفباری اور بارشوں سے 60 سے زائد افراد لقمہ اجل
صوبہ پنجشیر میں افغان مرد برف میں چل رہے ہیں، حکام کے مطابق ملک بھر میں شدید بارش اور برف باری کے باعث 61 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ / AFP
24 جنوری 2026

افغانستان کی آفات اور ہنگامی انتظامیہ نے اطلاع دی ہے کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں برفباری اور شدید بارشوں کے باعث 61 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان کی آفات اور ہنگامی انتظامیہ  کی طرف سے جاری کردہ نقشے کے مطابق یہ ہلاکتیں بدھ سے جمعہ کے  درمیانی عرصے میں بنیادی طور پر ملک کے وسطی اور شمالی صوبوں میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ANDMAنے ایکس پر کہا کہ 'ابتدائی ہلاکتوں اور تباہی کے اعداد و شمار  میں 110 زخمی اور 458 گھر جزوی یا مکمل طور پر  مسمار شامل ہیں۔

ایک ترجمان نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجموعی طور پر 360 خاندان متاثر ہوئے ہیں اور لوگوں سے برف پوش سڑکوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی درخواست کی گئی۔

صوبائی اتھارٹی پروان نے کہا کہ سالنگ شاہراہ، جو افغانستان کا ایک اہم راستہ ہے، بند کر دی گئی ہے۔

وسطی بامیان صوبے میں ایک پہاڑی گزرگاہ پر پھنسے مسافروں کو خوراک فراہم کی گئی ہے۔

 

دریافت کیجیے
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی
مہاجر کشتی یونانی ساحلی گارڈ کے جہاز سے ٹکرا گئی ، کم از کم 14 افراد ہلاک
شام کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری امن کی ضمانت ہے:ترکیہ
بھارت میں ’نیپا‘ وائرس کا پھیلاؤ
انڈونیشیا: سیمرو آتش فشاں پہاڑ میں سات دھماکے
جاوا میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 85 تک پہنچ گئی
سعودی-ترک سرمایہ کاری فورم شروع ہو گیا
یوکرین، روس اور امریکی نمائندے ابو ظہبی میں امن مذاکرات میں شرکت
13 سالہ آسٹریلوی بچے نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے گھنٹوں تک تیراکی کی
شام: وائے پی جی نے 23 شامی شہریوں کو حراست میں لے لیا
متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں
نامعلوم ڈرون اسلحہ گودام کے قریب تباہ،پولش فوج چوکناہو گئی
فلسطینیوں کا دوسرا گروپ رفح بارڈر کے راستے غزہ واپس لوٹ آیا
شام: داخلہ سلامتی دستے قامشلی میں داخل ہو جائیں گے
جرمنی: یورپ کو زیادہ خود مختار اور باہم متحدہ ہو جانا چاہیئے