تہران غیر سرکاری سفارتی راستوں کے لیے کھلا ہے: فیدان

ایرانی خود کو دھوکہ زدہ محسوس کر رہے ہیں تاہم میرا خیال ہے کہ وہ کسی بھی معقول پسِ پردہ سفارتی رابطے کے لیے کھلے ہیں: وزیر خارجہ خاقان فیدان

By
فیدان نے مزید کہا کہ اسرائیل سلامتی کے اہداف کے بجائے علاقائی عزائم کا حصول چاہتا ہے۔ / AP

ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ اس وقت  امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات رُک چکے ہیں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ  تہران غیر سرکاری سفارتی راستوں کے لیے کھلا ہے۔

فیدان نے بروز ہفتہ  ایسوسی ایٹڈ پریس کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ  خطّے میں  جھڑپوں کے حالات سرکاری سفارتکاری کو مشکل بنا دیتے ہیں لہٰذا  موجودہ ماحول  سفارتکاری کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ" ایرانی خود کو دھوکہ زدہ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ اُن پر حملہ اس وقت کیا گیا ہے کہ جب  واشنگٹن کے ساتھ ان کے جوہری مذاکرات جاری  تھے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ وہ کسی بھی معقول پسِ پردہ سفارتی رابطے کے لیے کھلے ہیں"۔

فیدان نے کہا ہے کہ خطّے میں کشیدگی بڑھنے کے باوجود ترکیہ کی اولین ترجیح جنگ سے باہر رہنا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمیں اُکسایا جا رہا ہے اور ہمیں اُکسایا جائے گا لیکن  ہمارا ہدف یہ ہے کہ  ہم اس جنگ سے باہر رہنا چاہتے ہیں"۔

نیتن یاہو کی زیرِ قیادت 'اسرائیل' اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے 'دشمن' کی ضرورت محسوس کر رہا ہے

فیدان نے خطّے میں اسرائیلی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں 'اسرائیل' خطّے کے  فریقین کو مسلسل بطور دشمن پیش کررہا ہے۔جب تک  نیتن یاہو موجود رہیں گے، اسرائیل ہمیشہ کسی نہ کسی کو دشمن قرار دیتا رہے گا کیونکہ اُنہیں اپنی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ اگر ترکیہ نہ ہوتو وہ خطّے کے کسی اور ملک کودشمن قرار دے دیں گے"۔

وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا  ہےکہ اسرائیل   کا ہدف سلامتی نہیں بلکہ مزید اراضی کا حصول ہے۔ لہٰذا جب تک وہ اس خیال سے باز نہیں آتے، مشرقِ وسطیٰ میں ہمیشہ جنگ ہوتی رہے گی"۔