امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کی کوشش مسترد کر دی

گزشتہ روز  ہونے والی 47–53 کی رائے شماری میں سینیٹرز ایران وار پاورز ریزولوشن کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے، جب ایوان نے سینیٹ امور خارجہ  کمیٹی سے اس بل کو خارج کرنے کے حق میں ووٹ نہیں دیا

By
امریکہ-ایران / Reuters

امریکہ کی سینیٹ نے ایک ایسی کوشش کو مسترد کر دیا ہے جسے ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل تھی اور جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ روکنے پر مجبور کرنا تھا۔

گزشتہ روز  ہونے والی 47–53 کی رائے شماری میں سینیٹرز ایران وار پاورز ریزولوشن کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے، جب ایوان نے سینیٹ امور خارجہ  کمیٹی سے اس بل کو خارج کرنے کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

یہ قرارداد ڈیموکریٹک سینیٹرز ٹم کین، ایڈم شیف اور چک شومر نے پیش کی تھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ انتظامیہ کو امریکہ کی جنگ میں شمولیت ختم کرنا پڑے جب تک کہ کانگریس فوجی طاقت کے استعمال کی منظوری نہ دے۔

زیادہ تر ری پبلکنز نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، جس سے  امور  دفاع کی ایران کے خلاف فضائی  حملوں کو محدود کرنے کی سینیٹ کی پہلی کوشش مؤثر طور پر رک  گئی ۔

ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال نے اپنی جماعت سے اختلاف کیا اور قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹر مین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

 ری پبلکن رہنماؤں نے صدر کے اقدامات کا دفاع کیا اور کہا کہ انہیں ایران پر جاری  حملے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

قرارداد کی منظوری کے لیے ڈیموکریٹس کو پال کے ساتھ شامل ہونے کے لیے کم از کم چار ری پبلکنز کی ضرورت تھی۔

اگر یہ بل سینیٹ اور ایوان دونوں سے منظور بھی ہو جاتا  ہے تو ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے تھے۔

صدر کے ویٹو کو رد کرنے کے لیے کانگریس کو دونوں ایوانوں میں تقریباً ناممکن دو تہائی اکثریت درکار ہوتی۔

وار پاورز ریزولوشن نے 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا حوالہ دیا جو ویتنام جنگ کے بعد منظور ہوا تھا اور جو کانگریس کو فوجی مداخلتوں پر رائے دہی  کرانے کا اختیار دیتا ہے اور بغیر اجازت تنازعات کو 60 دن تک محدود کرتا ہے۔

ڈیموکریٹس نے اعتراف کیا تھا کہ اس قرارداد کے منظور ہونے کے امکانات کم تھے مگر کہا کہ قانون سازوں کو جنگ کے بارے میں عوامی موقف اختیار کرنے پر مجبور کرنا ضروری تھا۔