پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا
آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے باوجود ایران، امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں متوقع، دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت کرے گا: پاکستانی ذرائع
پاکستان میں ثالثانہ کاروائیوں سے باخبر دو ذرائع نے پیر کے روز اناطولیہ نیوز ایجنسی کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے باوجود ایران، امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں متوقع، دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت کرے گا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی منگل کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ تاہم، تہران نے ابھی تک اس شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
توقع ہے کہ تہران کی نمائندگی وہی وفد کرے گا جس نے رواں مہینے کے اوائل میں منعقدہ پہلے دور کے مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔ سابقہ وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی اور اس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے۔
امریکی وفد کی قیادت ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے اور وفد میں خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد پیر کی رات دیر گئے یا منگل کو اسلام آباد پہنچے گا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جے ڈی وینس الگ طیارے سے آ سکتے ہیں۔واشنگٹن کی جانب سے امریکی وفد کی آمد کے وقت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ۔
پیش رفت پر نظر رکھنے والے متعدد پاکستانی ذرائع نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا ہےکہ "ایڈوانس پارٹی" اور سیکورٹی اہلکاروں کو لے کر آنے والے کم از کم دو امریکی طیارے اتوار کے روز اسلام آباد میں اتر چکے ہیں۔
اسلام آباد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں ہفتوں سے جاری تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کے انتہائی اہم مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کے روز اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا دورہ کیا تاکہ آئندہ مذاکرات کے حوالے سے سیکورٹی انتظامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
فریقین کے درمیان نافذ العمل دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے۔
اسلام آباد کے ساتھ ساتھ قریبی شہر راولپنڈی بھی سیکورٹی کے سخت حصار میں ہے اور شہر کے تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں۔ ان اہم مذاکرات کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
پاکستان نے 11تا12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان 1979 میں سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سے اب تک کی اعلیٰ ترین سطح کی ملاقات کی میزبانی کی تاہم مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے۔ 'اسلام آباد مذاکرات' کے نام سے معروف یہ بات چیت پاکستان کی ان کوششوں کا نتیجہ تھی جو وہ 28 فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کر رہا ہے اور جس کے تحت 8 اپریل سے دو ہفتوں کی جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔
واضح رہے کہ پہلے سے موجود کشیدگی میں پیر کے روز امریکہ کی طرف سے ایران کے ایک جہاز پر قبضہ کئے جانے اور تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کئے جانے کے بعد مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے اسلام آباد مذاکرات اور عالمی سپلائی چین میں خلل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو روک کر ناکارہ بنا دیا ہے اور اب جہاز امریکی میرینز کے کنٹرول میں ہے۔
ایران نے اس اقدام کو پاکستان کے زیرِ ثالثی طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا ہےکہ "جلد ہی" جوابی کارروائی کی جائے گی۔