ایران: ہم عمان میں مذاکرات میں نیک نیتی کا مظاہرہ کریں گے
مساوی حیثیت، باہمی احترام، اور باہمی مفادات " لازم ہیں اور ایک پائیدار معاہدے کے ستون ہیں۔
عمان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات سےقبل، ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ تہران "نیک نیتی" کے ساتھ سفارتکاری کر رہا ہے اورذمہ داریوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔"
عباس عراقچی نے X پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "ایران کھلی آنکھوں اور گزشتہ برس کے واقعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سفارتکاری کر رہا ہے۔ ہم نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اپنے حقوق پر قائم ہیں۔"
انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ مساوی حیثیت، باہمی احترام، اور باہمی مفادات " لازم ہیں اور ایک پائیدار معاہدے کے ستون ہیں۔"
واشنگٹن اور تہران کے جمعہ کوعمان میں جوہری مذاکرات طے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف امریکی وفد کی نمائندگی کریں گے۔
ملک کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایران کی نمائندگی عباس عراقچی کی قیادت میں ایک سفارتی وفد کرے گا اور ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ چکے ہیں ۔
مذاکرات اس ہفتے کے آغاز میں مشکوک قرار پائے تھے، مگر ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے انادولو کو تصدیق کی کہ یہ مذاکرات ہوں گے۔
یہ بات چیت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہو رہی ہے، جس کی وجہ خلیج میں امریکی فوجی تعیناتی اور دسمبر کے آخر سے ایران میں شروع ہونے والے احتجاجات کے بعد ٹرمپ کی طرف سے بار بار فوجی کاروائی کی دھمکیاں ہیں۔
حالیہ ایام میں کئی ممالک نے کشیدگی میں گراوٹ لانے کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، جس میں ترکیہ نے خاص طور پر فعال کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور اس کا حلیف اسرائیل ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں بجلی پیدا کرنا بھی شامل ہے۔