ٹرمپ: امریکہ نے ایرانی جزیرےخارگ پر بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے جزیرہ خارگ کے فوجی اہداف پر بمباری ک ہے، جو ملک کی خام تیل برآمدات کے ایک نمایاں حصے کا انتظام کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرے خارگ پر بڑا حملہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگرآبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل پڑا تو ملک کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کی صبح سوشل میڈیا پر کہا"امریکی سینٹرل کمانڈ نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی عظیم ترین طاقتور بمباری کی ہےاور ایران کے تاجِ جوہر، جزیرۂ خارگ پر ہر فوجی ہدف کو مکمل طور پر صفِحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ میں نے جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم، اگر ایران یا کوئی اور آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں مداخلت کرے گا تو میں فوراً اس فیصلے پر دوبارہ غور کروں گا۔"
ایران کا کہنا ہے کہ خارگ پر امریکی حملے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
ریاستی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق کہ ایران نے ہفتے کی صبح کہا کہ اس کے اسٹریٹجک جزیرے خارگ پر امریکی حملے سے تیل کی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم خبردار کیا کہ بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کی صورت میں خطے کی تیل کی تنصیبات پر جوابی حملے کیے جائیں گے ۔
رپورٹ میں ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ایک ترجمان کا حوالہ دیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ ایران کے تیل، اقتصادی یا توانائی کے اثاثوں پر کسی بھی حملے کی صورت میں"خطے میں موجود تمام متعلقہ امریکی تنصیبات"تباہ کر دی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی حملوں نے فضائی دفاع، ایک بحری اڈے اور ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پندرہ سے زائد دھماکے اور دھویں کے بادل دیکھے گئے، مگر جزیرے کی تیل کی بنیادی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا۔
اہم جزیرہ
متحدہ ریاستیں اور اسرائیل اس جزیرے کے معاملے میں احتیاط سے پیش آئے ہیں، لیکن رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے دوران خارگ پر قبضہ کرنا انتظامیہ کے قابلِ غور آپشنز میں شامل رہا ہے۔
یہ جزیرہ ایرانی سر زمین سے تقریباً 30 کلومیٹر دوری پر ہے اور ایک حالیہ جے پی مورگن نوٹ کے مطابق یہ ایران کی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد ہینڈل کرتا ہے۔
یہ علاقہ مین ہٹن کے تقریباً ایک تہائی رقبے کے برابر ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی کارروائی کے فوری نتائج مرتب ہوں گے۔
ایرانی حملوں نے آبنائے ہرمز میں سمندری آمدورفت کو تقریباً روک دیا ہے، جہاں معمول کے مطابق عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک پنجم حصہ گزرتا ہے، اور ان حملوں نے خلیجی دیگر ریاستوں میں بھی تیل کے بنیادی ڈھانچوں کو متاثر کیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ بہت جلد ٹینکروں کو آبنائے ہرمز کے راستے اسکورٹ کرنا شروع کر دے گی تاکہ تیل کی برآمدات بحال کی جا سکیں، کیونکہ وہ بڑھتی ہوئی امریکی پٹرول قیمتوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔