ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ عالمی سمندری تحفظ معاہدے میں شامل ہو گیا جو کہ نافذ ہونے والا ہے
عالمی آبی حدود میں بحری حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کے لیے ایک نئے دور کی علامت ہے۔ اس معاہدے سے مخصوص محفوظ علاقوں میں ماہی گیری پر پابندی سمیت سرگرمیوں کو نظم و ضبط کرنے کے لیے قانونی ڈھانچے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
ترکیہ عالمی سمندری تحفظ معاہدے میں شامل ہو گیا جو کہ نافذ ہونے والا ہے
ترک میرین ریسرچ فاؤنڈیشن (TUDAV) کے سربراہ بایرام اوزترک نے اس معاہدے کو عالمی سمندری تحفظ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ / AA

اہم ہائی سیز معاہدہ، جسے رسمی طور پر قومی حدود سے باہر حیاتیاتی تنوع کہا جاتا ہے17 جنوری بروزہ ہفتہ  نافذ العمل ہو جائے گا ۔ اس نے درکار 60 توثیقات حاصل کر لی ہیں، اور یہ بین الاقوامی پانیوں میں بحری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

2023 میں اقوام متحدہ  میں قبول کردہ یہ معاہدہ ، ہائی سیز پر محفوظ علاقے قائم کرنے کے لیے ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے اور  نازک بحری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا  سکنے والی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لازم قرار دیتا ہے ۔

اب تک ہائی سیز، جو دنیا کے سمندروں کا تقریباً دو تہائی حصہ ہیں، جامع قانونی تحفظ سے محروم تھیں اور حفاظتی انتظامات زیادہ تر قومی اور ساحلی پانیوں تک محدود رہے۔

معاہدے  کا  فریق: ترکیہ

عالمی سطح پر تقریباً 16,600 سمندری محفوظ علاقے دنیا کے سمندروں کے 9.6 فیصد کا احاطہ کرتے ہیں، لیکن صرف 3.2 فیصد علاقے سخت یا مکمل طور پر محفوظ ہیں جہاں ماہی گیری جیسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں لاگو ہوتی ہیں، یہ اعداد و شمار میرین کنزرویشن انسٹی ٹیوٹ کے 'مارین پروٹیکشن اٹلس' کے مطابق ہیں۔

ترک بحری تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے سربراہ بائرام اوزترک نے انادولو  ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے،  اس معاہدے کو عالمی سمندری تحفظ کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ ہائی سیز میں محفوظ علاقے بین الاقوامی پانیوں میں  محض ماہی گیری کی  ممانعت پر مبنی،  بلکہ مخصوص محفوظ علاقوں میں مکمل پابندیاں عائد کرنے سمیت سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے ایک مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاBBNJ معاہدے کے مؤثر نفاذ سے کھلے سمندر میں حیاتیاتی تنوع کا نمایاں تحفظ ممکن ہے اور سمندری گورننس کے بڑے خلاؤں کو پر کیا جا سکتا ہے،

برصا ٹیکنیکل یونیورسٹی کے شعبہ بحریات کے لیونت بلگیلی نے کہا کہ یہ معاہدہ شریک ریاستوں کے تحت پرچم بردار جہازوں اور بین الاقوامی پانیوں میں ہونے والی کارروائیوں کے لیے زیادہ ذمہ داری اور ماحولیاتی تحفظ کے اعلیٰ معیار عائد کرے گا۔

اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس (COP31)، جو نومبر میں طے ہے، بنیادی طور پر ترکیہ کے بحیرہ روم کے ساحل انطالیہ میں منعقد ہوگی، جبکہ رہنماؤں کا اجلاس استنبول میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بلگیلی نے انادولو کو بتایا کہBBNJ معاہدے کا فریق ہونے کے ناطے ترکی کی فعال شمولیت COP31 کی میزبانی کے طور پر اس کی پوزیشن کو مضبوط کرتی ہے، جہاں سمندر اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی ارتباط متوقع طور پر ایجنڈے کا اہم موضوع ہوں گے۔

 

دریافت کیجیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ