ٹرمپ کا غزہ منصوبہ منسوخ کیا جائے: سموٹرچ
غزہ میں امریکی زیرِ قیادت رابطہ مرکز بند کیا جائے اور 'مصر اور برطانیہ' جیسے 'دشمن' ممالک کو مرکز سے خارج کیا جائے: بزالل سموٹرچ
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بزالل سموٹرچ نے زیرِ محاصرہ غزہ کے لیے ٹرمپ منصوبے کی منسوخی، فلسطینیوں کی جبری منتقلی اور علاقے میں اسرائیلی بستیوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل ذرائع ابلاغ کے مطابق بزالل سموٹرچ نے کل بروز سوموار جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں امریکی زیرِ قیادت رابطہ مرکز بند کیا جائے اور 'مصر اور برطانیہ' جیسے 'دشمن' ممالک کو مرکز سے خارج کیا جائے۔
سموٹرچ نے کہا ہے کہ "غزہ ہمارا ہے اور اس کا مستقبل ہمارے مستقبل کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرے گا"۔
سموٹرچ نے زور دے کر کہا ہےکہ اسرائیل کو قبضے کے ہم پلّہ قرار دیئے جا سکنے کی حد تک عسکری انتظامیہ لاگو کرنا اور 'مشن کومکمل' کرنا چاہیے۔ ہمیں ،ٹرمپ کو بتانا چاہیے کہ ان کا منصوبہ اسرائیل کے لیے نقصان دہ ہے لہٰذا اس کی منسوخی ضروری ہے"۔
سموٹرچ نے مصر اور برطانیہ کو نشانہ بنایا
وزیرِ خزانہ 'سموٹرچ' نے، جنوبی اسرائیلی بستی کیریٹ گاٹ میں قائم اور ٹرمپ غزّہ منصوبے کے نگران ' شہری۔فوجی رابطہ مرکز' کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
خبروں کے مطابق، سموٹریچ نے اس کمانڈ سینٹر سے مصر اور برطانیہ جیسے'دشمن' قرار دیئے گئے ممالک کو خارج کرنے، رفح سرحدی چوکی کے فلسطینی حصّے کو کھولنے، فلسطینیوں کو غزّہ سے نکلنے اور کہیں اور مستقبل تلاش کرنے کی اجازت دینے کے مطالبات بھی کئے ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ مرکز اکتوبر میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی طرف سے قائم کیا گیا تھا اور اس میں درجنوں ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔