ٹرمپ نے کینیڈا کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا
ٹرمپ نے اپنے 'امن بورڈ' میں شمولیت کے لئے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 'امن بورڈ' میں شمولیت کے لئے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "براہ کرم اس خط کو 'امن بورڈ' دعوت نامے کی منسوخی کے خط کی حیثیت سے قبول کریں"۔
کارنی ، رواں ہفتے جاری کردہ اور امریکی قیادت والے عالمی نظام میں ایک ’دراڑ‘ ہے کے الفاظ پر مبنی بیان کے ساتھ، بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔کارنی انتظامیہ نے، عالمی تنازعات کے خاتمے کے لیے، ٹرمپ کے خود ساختہ ادارے میں شمولیت کی مد میں ادائیگی سے بھی انکار کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے 'امن بورڈ' کا اعلان اور اجراء کرنے کے بعد خود کوباضابطہ طور پر اس بین الاقوامی ادارے کا چیئرمین قرار دیا ہے۔
عالمی رہنماؤں نے بروز جمعرات ،ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم کے دائرہ کار میں منعقدہ، 'امن بورڈ ' کے چارٹر پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی ۔تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے بورڈ کے چارٹر کا اعلان کیا اور اس پر دستخط کئے ہیں۔
اس اقدام کو ابتدائی طور پر غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور نسل کشی کے بعد کی تعمیر نو کے انتظامی میکانزم کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ ایک وسیع بین الاقوامی مصالحتی ادارے میں تبدیل ہو گیا ہے اور درجنوں ممالک کو اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔
امن بورڈ میں شامل ہونے والے ممالک میں ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، قطر، مصر اور ہنگری بھی شامل ہیں۔
دیگر شرکاء میں مراکش، انڈونیشیا، کوسووا، قزاقستان، ازبکستان، ویتنام، ارجنٹائن، آرمینیا، آذربائیجان اور بیلاروس شامل ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے امن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی غزہ کے انتظام کے لیے ایک غزّہ قومی کمیٹی کی منظوری بھی دی ۔ یہ قومی کمیٹی زیرِ محاصرہ غزّہ میں عبوری مرحلے کے لئے قائم کئے گئے چار انتظامی اداروں میں سے ایک ہے۔