ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
پاکستان کی ثالثی میں ہفتے کو ہونے والی بات چیت گفت و شنید کے کئی دور اور تجاویز کے تبادلے کے بعد ختم ہوئی، مگر اس دوران کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔
ایران نے الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن نے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کو معاہدے تک پہنچنے کے عین قریب ہونے کےوقت برباد کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ"ہم نے جنگ ختم کرنے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ امریکہ کے ساتھ بات چیت کی۔"
انہوں نے کہا کہ فریقین بس چند انچوں کی دوری پر اسلام آبادمفاہمت نامے کے بہت قریب تھے، جب امریکی جانب سے مزید مطالبات، ہدف بدلنے اور محاصرے جیسی شرائط کا سامنا کرنا پڑا۔
عراقچی نے مزید کہا: نیک نیتی، نیک نیتی کو جنم دیتی ہے۔ دشمنی دشمنی کو۔
مذاکرات ناکام
یہ بیانات اسی دوران سامنے آئے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ وہ پیر سے ایرانی بندرگاہوں سے تمام سمندری نقل و حمل پر ناکہ بندی نافذ کرنا شروع کر دے گا۔
اس ناکہ بندی کا اطلاق آبنائے ہرمز کے راستے غیر ایرانی بندرگاہوں کو جانے یا وہاں سے آنے والے جہازوں پر نہیں ہوگا۔
یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جو اسلام آباد میں بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔
پاکستان کی ثالثی میں ہفتے کو ہونے والی بات چیت گفت و شنید کے کئی دور اور تجاویز کے تبادلے کے بعد ختم ہوئی، مگر اس دوران کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔
دونوں فریق اسلام آباد سے اہم اختلافات حل کیے بغیر روانہ ہوئے، اور دونوں نے اشارہ کیا کہ مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
یہ مذاکرات ان وسیع تر کوششوں کا حصہ تھے جو امریکہ-اسرائیل کی ایران کے خلاف 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے جاری تھیں ۔