بھارت اور متحدہ عرب امارات نے 3 بلین ڈالر کا ایل این جی معاہدہ کر لیا
معاہدے کے ساتھ بھارت، متحدہ عرب امارات کا، سب سے بڑا ایل این جی گاہک بن گیا ہے۔
بھارت نے متحدہ عرب امارات سے مائع قدرتی گیس'ایل این جی' کی خرید پر مبنی 3 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔
اطلاع کے مطابق بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مائع قدرتی گیس کی خرید کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے ساتھ بھارت، متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا ایل این جی گاہک بن گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے تجارتی و دفاعی روابط کی مضبوطی کے لیے بھی بات چیت کی ہے۔
معاہدے پر بروز پیر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے دو گھنٹوں پر محیط مختصر دورہ بھارت کے دوران دستخط کئے گئے ہیں۔ اپنی مصروفیات کے دوران النہیان نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ دونوں سربراہان نے چھ سال میں باہمی تجارتی حجم کو 200 ارب ڈالر زرِ مبادلہ کے ساتھ دوگنا کرنے اور ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ابو ظہبی کی سرکاری گیس کمپنی ADNOC نے کہا ہے کہ وہ بھارت کی ہندستان پیٹرولیم کارپوریشن کو دس سال کے لیے سالانہ 0.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی۔
ADNOC گیس نے کہا ہےکہ اس معاہدے کے ساتھ اس کے بھارت کے ساتھ معاہدوں کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔بھارت اب متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا گاہک ہے اور ADNOC گیس کی ایل این جی حکمتِ عملی کا بہت اہم حصہ ہے۔
اسٹریٹجک دفاعی شراکت
متحدہ عرب امارات، بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ موجودہ دورہ بھارت میں شیخ محمد کے سرکاری وفد میں وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ بھی شامل تھے۔
بھارت کے مشیر برائے امورِ خارجہ وکرم میسری نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ دونوں فریقوں نے، اسٹریٹجک دفاعی شراکت کے قیام کی کوششوں پر مبنی میمورینڈم پر بھی دستخط کیے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کے روایتی حریف پڑوسی ملک پاکستان نے گذشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور گذشتہ ہفتے ایک پاکستانی وزیر نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین سہ فریقی دفاعی معاہدے کے مسودے کی تیاری کا بھی اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ سالوں تک قریبی اتحادی رہنے کے بعد علاقائی پالیسیوں پر اختلافات کی وجہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے سے دُور ہو گئے ہیں۔ ان کا اختلاف یمن میں کھل کر سامنے آیا ہے اور تیل کی پیداوار کے معاملے میں بھی ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
تاہم میسری نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ میمورینڈم پر دستخط کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت علاقائی تنازعات میں ملوث ہو جائے گا۔ دفاع و تحفظ کے معاملے میں علاقے کے کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارا تعاون علاقائی تنازعات میں ہماری شمولیت کے معنی نہیں رکھتا"۔