ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کمیٹی کا پہلا اجلاس
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کردہ سٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس اسطنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔
استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کمیٹی کا پہلا اجلاس
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا کمیٹی اجلاس استنبول میں شروع ہو گیا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت  اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ترکیہ کی میزبانی میں استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ کمیٹی ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے خارجہ و دفاع کے وزراء اور جنرل اسٹاف کے سربراہان پر مشتمل ہے۔

ترک وفد میں وزیرِ خارجہ حاقان فیدان، وزیرِ دفاع یاشار گولیر اور جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل سلچوک بائراکتاراولوو شامل ہیں۔ اجلاس میں بین الاقوامی سلامتی، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی، اس سلسلے میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی صلاحیت اور تعاون کو فروغ دینے، مشترکہ پیداواری کوششوں اور تحقیق و ترقی سمیت دفاعی صنعت میں تعاون کو گہرا کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے جیسے موضوعات پر غور کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔

علاوہ  ازیں اجلاس میں کمیٹی کے طے شدہ مشترکہ عملی شعبوں کی رہنمائی کے لیے سیکرٹریٹ اور دیگر متعلقہ میکانزم کے دائرہ کار کو قائم کرنے اور آئندہ  کے  اقدامات کے لیے ایک روڈ میپ وضع کرنے کا خاکہ تیار کرنے کی توقع ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

یا درہے صدر رجب طیب ایردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ میں 'مشترکہ دفاعی معاہدہ' پر دستخط کیے تھے۔

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے خطوں اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی عدم استحکام کے پیش نظر مشترکہ ذمہ داری اور علاقائی ملکیت کے اصول کے تحت یہ معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد خطے اور عالمی سطح پر سلامتی، امن، استحکام اور فلاح و بہبود کو فروغ دینا اور مشترکہ بازدارندگی کو مضبوط کرنا ہے۔

اس معاہدے کے مطابق، کسی بھی فریق مملکت پر کیا گیا حملہ تمام فریقین کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔

یہ معاہدہ خطے میں ایک نئی تعاون کی ثقافت قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے اور پرامن تعاون کے نظریے کو بانٹنے والے تمام اداکاروں کی شمولیت کو ممکن بناتا ہے۔

 

دریافت کیجیے
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
ترکیہ: دو تجارتی بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر، 10افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
پاکستان میں شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی