صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی فلسطین کی حمایت کو سراہا اور ٹرمپ سے ملاقات کو تعمیری قرار دیا

صدر ایردوان نے نیویارک اور واشنگٹن میں اپنے مذاکرات کو "تعمیری، پیداواری اور تاریخی" قرار دیتے ہوئے ترکیہ واپسی پرواز میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔

“We were received very warmly at the White House. The atmosphere was sincere and productive,” Erdogan told journalists. / Other

 صدر رجب طیب اردوان نے نیویارک میں 80ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد اپنے دورے کو ترکیہ کی سفارت کاری کے لیے "تعمیری، نتیجہ خیز اور تاریخی" قرار دیا۔

ایردوان نے اس سال کی جنرل اسمبلی کو غزہ کی صورتحال سے منسوب کیا۔ انہوں نے کہا، "غزہ میں نسل کشی اور فلسطینی مسئلہ نے اس سال کی جنرل اسمبلی پر گہرا اثر چھوڑا۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ برطانیہ، فرانس اور دس دیگر مغربی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ تسلیم کرنے کے فیصلے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو ارکان کی طرف سے، تاریخی ہیں۔ ان اقدامات کے ساتھ، فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی ہے۔ دو ریاستی حل کے لیے حمایت اور  کسوٹیوں دونوں میں  اضافہ ہو رہا ہے، لیکن بین الاقوامی برادری کو اس کو حقیقت میں بدلنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔"

انہوں نے اسرائیل کے "بے لگام اقدامات اور قبضے کی پالیسیوں" کو ان کوششوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے غزہ کے مسئلے کو اپنی جنرل اسمبلی کی تقریر، ٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں اٹھایا۔ انہوں نے کہا، "ہم اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔"

ترک صدر نےمسئلہ  قبرص، شام، اور روس-یوکرین جنگ پر ترکیہ کے موقف کو بھی اجاگر کیا اور انقرہ کی انسانی اور ثالثی کی کوششوں، بشمول  بحیرہ اسود اناج معاہدے اور قیدیوں کے تبادلے جیسے معاملات کا ذکر کیا۔

دو طرفہ تجارت کا ہدف  ایک سو بلین ڈالر

اپنے دو طرفہ ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ایردوان نے بتایا کہ ان کی ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں تجارت، دفاعی تعاون، اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تجارتی ہدف کے ایک سو  بلین  ڈالر کے  ہدف کی  دوبارہ تصدیق کی ہے  اور  کسٹم ڈیوٹیز اور دیگر تجارتی سہولت کے اقدامات پر بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی تعاون کو "تعمیری نقطہ نظر" کے ساتھ زیر بحث لایا گیا۔ بات چیت کا ایک دوسرا اہم  موضوع غزہ تھا، جہاں اردوان نے زور دیا کہ دونوں فریق خونریزی کو روکنے اور دیرپا امن کی طرف بڑھنے کے وژن میں شریک ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا، " وائٹ ہاؤس میں ہمارا بڑی گرمجوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔ ماحول مخلص اور نتیجہ خیز تھا۔ صدر ٹرمپ ایک ایسے سیاستدان ہیں جو کھل کر بات کرتے ہیں، اور ہمارا مکالمہ اس کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دورے کو بدنام کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ ترک-امریکی تعلقات پر مثبت اثر ڈالے گا۔"

غزہ کے بارے میں ایردوان نے کہا کہ انہوں نے انسانی بحران کو براہ راست ٹرمپ کے سامنے پیش کیا۔ "ہم نے پہلے جنگ بندی کی طرف اور پھر دیرپا امن کی طرف بڑھنے پر تبادلہ خیال کیا۔ ہمارے خیالات میں ہم آہنگی تھی۔"

انہوں نے مزید کہا، "دو ریاستی حل خطے میں پائیدار امن کے لیے واحد قابل عمل فارمولا ہے۔ بچوں، خواتین، اور معصوم شہریوں کے قتل کو کسی بھی حفاظتی بہانے کے تحت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔" انہوں نے  عندیہ دیا کہ جب تک اس کا منصفانہ اور دیرپا امن حاصل نہ ہو جائے، ترکیہ اس مسئلے کو بین الاقوامی ایجنڈے پر رکھے گا۔"

ایردوان نے اپنی جنرل اسمبلی کی تقریر کے دوران دکھائی گئی غزہ میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی تصاویر پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا، "یہ تصاویر الفاظ کافی نہ ہو سکنے والے حقائق کی تشریح کرتی ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ "زیادہ سے زیادہ ممالک کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ضمیر تا حال زندہ ہے۔"

شام کی علاقائی سالمیت

علاقائی مسائل پر، اردوان نے شام کی علاقائی سالمیت کے لیے حمایت پر زور دیا اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی حملوں، بشمول شام، لبنان، اور یمن میں، پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیویارک میں شامی صدر احمد الشراع سے اپنی ملاقات کا  بھی ذکر کیا اور  ترکیہ کی شام کی تعمیر نو میں تعاون کی خواہش  کو زیر لب لایا اور کہا  کہ "دہشت گرد گروہوں کا شام کے مستقبل میں کوئی مقام نہیں ہے۔"

انہوں نے مصر کے ساتھ ترکیہ کے بہتر تعلقات پر بھی روشنی ڈالی، مشرقی بحیرہ روم میں 13 سال بعد مشترکہ بحری مشق کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر اور لیبیا دونوں کے ساتھ تعاون بڑھ رہا ہے، اور ترکیہ کے  اس عزم کو اجاگر کیا کہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرے گا جبکہ بحیرہ روم کے وسائل میں "ون-ون" پر عمل پیرا ہو گا۔

مسئلہ قبرص  کے حوالے سے  ایردوان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "وفاقی ماڈل ختم ہو چکا ہے" اور واحد حقیقت پسندانہ حل دو خودمختار ریاستوں کا اعتراف ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ میں آئندہ انتخابات انقرہ کے موقف کو تبدیل نہیں کریں گے۔

انہوں نے آخر میں  بیرونی چیلنجز کے  مد مقابل  قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور "داخلی محاذ" کو مضبوط کرنے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے ایک "دہشت گردی سے پاک" مستقبل کی تعمیر کے لیے ترکیہ کے عزم کی طرف اشارہ کیا، جبکہ دفاع، ٹیکنالوجی، اور معیشت میں  ترقی کے سفر کو جاری رکھنے  کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی خارجہ پالیسی امن پر مبنی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی  منصفانہ امن  میں مات کھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جب تک خونریزی بند نہیں ہوتی، ترکیہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔"