چین: آبنائے ہُرمز میں حملے فوری طور پر بند کئے جائیں
آبنائے ہرمز کا امن بحال کیا جائے خطے میں سلامتی و استحکام بین الاقوامی برادری کے مفاد میں ہے: گو جیائکن
چین نے آبنائے ہرمز میں سکون کی اپیل کی اور کہا ہے کہ خطے کی سلامتی و استحکام کی یقین دہانی بین الاقوامی برادری کے مفاد میں ہے۔
چین وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیائکن نے آج بروز جمعرات بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ خطے کی توانائی کی تجارت کو اور اس کے اطراف کے علاقوں کو "محفوظ اور مستحکم" رکھنا بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
انہوں نے تمام فریقین سےفوجی کارروائیاں "فوری طور پر" بند کرنے ، مزید کشیدگی سے گریز کرنے اورعلاقائی کشیدگی کو عالمی اقتصادی ترقی کو متاثر کرنے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ آیا بیجنگ ایران کو خفیہ معلوماتی حمایت فراہم کر رہا ہے؟' گو' نے ایک بار پھر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی اپیل دہرائی اور کہا ہےکہ "چین کی پوزیشن بدستور شکل میں واضح ہے" ۔
بیجنگ اور تہران نے 2021 سے اپنی 25 سالہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رکھی ہے، جس کے تحت چین نے توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں ایرانی تیل کی مستحکم، رعایتی فراہمی کے بدلے میں 400 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ سے پہلے چین ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 80 فیصد خرید رہا تھا، جو 2025 میں روزانہ تقریباً 1.38 ملین بیرل بنتی تھیں۔ یہ مقدار چین کے سمندری راستے سے حاصل کردہ خام تیل کا 13 فیصد سے زائد ہے۔
ہرمز کی بندش نے خام تیل کی قیمتیں بڑھا دیں
اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر 28 فروری کے مشترکہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ حملوں میں ایران کے دینی لیڈر علی خامنہ ای اور ایک اسکول کی 150 سے زائد طالبات سمیت کم از کم 1,200 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ایران نے اسرائیل اور اردن، عراقسمیت امریکی فوجی اثاثے رکھنے والے دیگر خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے جوابی کاروائی کی۔
ایران نے تقریباً یکم مارچ سےآبنائے ہرمز کو عملاً بند کر رکھا ہے۔یومیہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد اس اہم سمندری راستے سے کیا جاتا ہے۔
بندش نے تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دیں۔
آبنائے ہُرمز کی کھولنے کی کوشش میں، امریکہ نے اس اسٹریٹجک گزرگاہ کے نزدیک متعدد ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔تباہ ہونے والے جہازوں میں کم از کم 16 عدد مائن بچھانے والے جہازبھی شامل تھے۔