دس روزہ لبنان۔اسرائیل جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا
اسرائیل نے آج "مختلف جارحانہ اقدامات"کر کے اس تازہ ترین معاہدے کی اوّلین خلاف ورزیاں کی ہیں لہٰذا ملک کے جنوب میں مقیم شہری محتاط رہیں: لبنان مسلح افواج
لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا 10 روزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ہم، دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان بالمشافہ ملاقات کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ تاریخ میں پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی"۔
تاہم، بیروت کے رہائشیوں نے 2024 کے جنگ بندی معاہدے کی تقریباً روزانہ خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسرائیل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور امن کی امید ظاہر کرتے ہوئے محتاط روّیہ اختیار کیا ہے۔
لبنانی فوج نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے آج بروز جمعہ علی الصبح "مختلف جارحانہ اقدامات"کر کے اس تازہ ترین معاہدے کی اوّلین خلاف ورزیاں کی ہیں لہٰذا ملک کے جنوب میں مقیم شہری محتاط رہیں۔
یہ جنگ بندی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن نے ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں کیونکہ تہران اس بات پر بضد تھا کہ کسی بھی معاہدے کے حصے کے طور پر لبنان میں جنگ بندی لازمی ہے۔
جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جانے والے دارالحکومت بیروت کے جنوبی محلوں میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جنہیں غیر مصدقہ ہونے کی وجہ سے فی الحال جشن کی لہر قرار دیا جا رہا ہے۔
بیروت کی ایک 61 سالہ گھریلو خاتون 'جمال شہاب 'نے فائر بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم لبنان میں جنگ بندی پر بہت خوش ہیں کیونکہ ہم جنگ سے تھک چکے ہیں۔ ہم امن و سلامتی چاہتے ہیں۔"
دوسری جانب ایک کیفے میں بیٹھے وکیل طارق بو خلیل نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ "سب جانتے ہیں کہ نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دباؤ اور جنوبی لبنان میں دشمن فوج کی غلطیوں نے انہیں جنگ بندی پر مجبور کر دیا ہے۔"
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہوئی تھی۔ 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ فائرنگ کے بعد لبنان بھی اس جنگ میں شامل ہو گیا تھا۔ اس دن سے تاحال لبنان پر اسرائیلی حملوں اور جنوب میں قبضے کی کوششوں کے نتیجے میں 2,000 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔