روس نے ٹرمپ کی درخواست پر یوکرینی دارالحکومت کیف پر حملوں کو روک دیا

کیف میں درجہ حرارت اتوار سے منفی 26 سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے، جبکہ امریکہ سرکاری طور پر فائر بندی کا معاہدہ ہوئے بغیر ہی باوجود تنازع کم کرنے کے موقع پر زور دے رہا ہے۔

By
روس کے ملک کے توانائی کے نظام پر باقاعدہ فضائی حملوں کے باعث ہونے والی بجلی کی بندش کے دوران ایک جنریٹر چل رہا ہے، اور کیف میں ایک گلی کا دکاندار کام کر رہا ہے۔ / AP

روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر سخت سردی کے دوران یکم فروری تک کیف پر فضائی حملے روک دینے پر اتفاق کیا ہے تو یوکرین نے کہا کہ وہ  بھی  ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن   جنگ ختم  کرنے کے لیےسفارتی حل کی کوششیں کر رہا ہے۔

یوکرینی دارالحکومت اتوار سے آنے والی مزید ایک شدید ٹھنڈ کی لہر کے لیے تیار ی کرنے والے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی باقاعدہ جنگ بندی قائم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روس نے اب یوکرینی لاجسٹکس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

روس نے حالیہ ایام  میں یوکرین کی سڑکوں اور ریلوے کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔

کریملن نے کہا  ہےکہ صدر ولادیمیر پوتن نے مذاکرات کے لیے "ساز گار حالات" پیدا کرنے کے لیے ٹرمپ کی درخواست قبول کی ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہونے کے حالات میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں سے ہزاروں افراد کئی روز تک گھروں میں ہیٹنگ کی سہولت سے محروم رہے تھے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا، "صدر ٹرمپ نے واقعی ذاتی طور پر صدر پوتن سے کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے ساز گار ماحول پیدا  کرنے کے لیے یکم فروری تک کیف پر حملہ کرنے سے باز رہیں، اور تصدیق کی کہ پوتن نے اس درخواست کو منظور کر لیا تھا۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین بدلے میں روس کی ریفائنری انفراسٹرکچر پر حملے روک کر جواب دینے کے لیے تیار ہے، اور کہا کہ یہ "معاہدہ نہیں بلکہ ایک موقع" ہے۔

ٹیلگرام پر ایک پوسٹ میں زیلنسکی نے کہا کہ رات کے وقت یوکرینی توانائی کی تنصیبات پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور ماسکو کا رخ اب لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی طرف ہو گیا ہے۔

کیف پر اس ماہ بھاری روسی فضائی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنہوں نے شہر کے بڑے حصوں کی بجلی معطل کر دی تھی، زیلنسکی نے کہا کہ یوکرینی فضائی دفاع کمزور پڑ گئی کیونکہ کیف کے یورپی اتحادیوں نے PURL ہتھیاروں کی خریداری کے تحت امریکہ کو ادائیگیاں مؤخر کر دیں۔اس کے باعث امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل بر وقت نہ  پہنچ سکے۔

زیلنسکی نے اس وقت اپنی صورتِ حال بیان کرتے ہوئے کہا"مجھے معلوم ہے کہ (روسی) بیلسٹک میزائل ہماری توانائی کی بنیادی ڈھانچے کی طرف آرہے ہیں... اور مجھے معلوم ہے کہ بجلی نہیں ہوگی، کیونکہ انہیں روکنے کے لیے  ہمارے پاس کوئی  دفاعی میزائل نہیں ہیں،"

دو طرفہ حملے

یوکرینی فضائیہ نے کہا کہ روس نے اپنے تازہ رات بھر کے فضائی حملوں میں ایک بیلسٹک میزائل اور 111 ڈرون داغے۔ زیلنسکی نے کہا کہ اس میزائل نے شمال مشرقی خارکیف علاقے میں ایک امریکی کمپنی کے گوداموں کو نقصان پہنچایا، لیکن کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا۔

یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے ملک کے جنوب مشرق میں زاپوریژیا علاقے میں متعدد روسی لاجسٹک تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

زیلنسکی نے کہا کہ توانائی تنصیبات پر فضائی حملے معطل کرنے کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا موقع پچھلے ہفتے ابو ظہبی میں ہونے والی بات چیت کے دوران امریکہ نے پیش کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بات چیت کی تاریخ یا مقام، جو فی الحال اس اتوار کو دوبارہ متحدہ عرب امارات میں طے ہے، تبدیل ہو سکتا ہے۔

"امریکیوں نے کہا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے مسئلے کو اٹھانا چاہتے ہیں، دونوں فریق ایسے بعض اقدامات دکھائیں جو طویل فاصلے کی صلاحیتوں کے استعمال سے گریز کو ظاہر کریں تاکہ سفارتی راستے کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہو۔"

توانائی سیکٹر کے لیے جنگ بندی کی طرف یہ پیش رفت جنگ کے ایک نازک لمحے میں سامنے آئی ہے، جو اگلے مہینے کے آخر میں اپنی چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے۔

روسی فوجیں یوکرین کے مشرقی دونتسک علاقے میں اپنی آہستہ  مگر مسلسل پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ماسکو ملک کے مشرق اور جنوب میں محاذ سے دور قصبوں اور شہروں پر تقریباً روزانہ حملوں میں سینکڑوں ڈرون بھیجتا ہے۔