ایشیا بھر میں اموات کی تعداد 1,700 سے تجاوز کر گئی

شدید سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایشیا بھر میں اموات کی تعداد 1,700 سے تجاوز کر گئی ہے اور سیکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں

By
انڈونیشیا کے شمالی سماٹرا صوبے میں 7 دسمبر 2025 کو آنے والے مہلک سیلابی ریلے کے بعد، ایک مقامی خاتون سیلاب میں بہہ کر آئے ہوئے لکڑی کے تنوں کے پاس سے گزر رہی ہے۔ / Reuters

اتوار سے جاری شدید سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایشیا بھر میں اموات کی تعداد 1,700 سے تجاوز کر گئی ہے اور سیکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔

بے مثال شدّت والے  سیلابوں، لینڈ سلائیڈنگ، طوفان اور سائیکلون نے ملائیشیا، سری لنکا، بھارت اور تھائی لینڈ میں تباہی مچا دی ہے۔ ان قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک انڈونیشیا ہے۔

انڈونیشیا  قومی آفات  ایجنسی نے کہا ہے کہ صرف سوماترا جزیرے میں سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 916 افراد ہلاک اور تقریباً 4,200 زخمی ہوگئے ہیں اور 274 ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ آفت زدگان کو بچانے کے لئے امدادی کام جاری ہیں۔  

تباہ کن سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 3.2 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ شمالی سوماترا، مغربی سوماترا اور آچے کے سیلاب زدہ صوبوں سے ایک ملین سے زیادہ بے گھر افراد کو محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر پراوبو سوبیانتو نے کہا  ہےکہ ملک 2026 میں دفاع اور قدرتی آفات کی تیاری کے لیے 200  ہیلی کاپٹر خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے حکومت کے،  فوری ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے بشمول نقل و حمل کے فوجی طیاروں  کے تمام دستیاب وسائل کو متحرک کرنے کے، عزم  کی دوبارہ  تصدیق کی ہے۔

سری لنکا  محکمہ آفات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سائیکلون ڈیٹوا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 618 تک پہنچ گئی ہے اور 17 نومبر یعنی طوفان آنے  کے بعد سے لاپتہ ہونے والے  209 افراد کا ابھی تک پتہ نہیں چلایا جا سکا ۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں  کہا تھا کہ جنوبی تھائی لینڈ میں کم از کم 185 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور367 افراد لاپتہ ہیں۔ شدید موسمی حالات کے دوران بھارت میں 4 اور ملائیشیا میں 3 اموات  کی اطلاع ملی ہے۔