ترکیہ: ایران جنگ پر ثالث ملک پاکستان کے ساتھ ممکنہ اجلاس عنقریب ہو سکتا ہے
ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان کے مطابق، ان بات چیت میں چار مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائےِ خارجہ شریک ہوں گے۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے حوالے سے بات چیت اس ہفتے کے آخر میں پاکستان میں ہو سکتی ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے نجی نشریاتی ادارے A Haber کو بتایا کہ"شروع شروع میں ہم نے یہ اجلاس ترکیہ میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم چونکہ ہمارے پاکستانی ہم منصبوں کو اپنے ملک میں رہنا مقصود تھا، اس لیے ہم نے اجلاس پاکستان منتقل کر دیا۔"
فیدان نے بتایا کہ "اس بات کا امکان ہے کہ ہم اس اختتام الہفتہ وہاں یکجا ہوں گے۔"
ترک اعلیٰ سفارت کار کے مطابق، ان بات چیت میں چار مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائےِ خارجہ شریک ہوں گے۔
جمعہ کے اوائل میں، جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان وائڈےفُل نے کہا کہ وہ پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست ملاقات کی "عنقریب" توقع رکھتے ہیں، مگر انہوں نے اپنا ماخذ ظاہر نہیں کیا۔
تہران نے واشنگٹن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات ہونے کا اعتراف کرنے سے انکار کیا ہے تو ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک نامعلوم ماخذ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے اسلام آباد کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ ختم کرنے کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب پہنچا دیا ہے۔
اسی دوران، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے جمعہ کو کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایران اس ہفتے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کرے گا۔
میامی میں ایک کاروباری فورم سے گفتگو کرتے وقت وٹکوف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ہفتے ملاقاتیں ہوں گی، ہم یقینی طور پر اس کے لیے پرامید ہیں۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے جمعہ کو کہا کہ مذاکرات کے دوران بیک وقت ایران پر امریکی حملے ناقابلِ قبول ہیں، اور تہران نے صنعتی اور جوہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی وجہ سے امریکی پیشکش کا جواب دینے کے بارے میں ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔
اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران امریکی تجاویز کا جواب جمعہ یا ہفتہ کو پیش کرے گا۔