ہیٹی میں گینگ قتلِ عام میں کم ازکم 70 افراد ہلاک، 30 سے زائد زخمی
ڈیفنڈرز پلس کے شعبہ اطلاعات کے عہدیدار گیری دوریسکات نے کہا کہ یہ حملے 'جان اور حفاظت کے حق کی کھلی خلاف ورزیاں' ہیں،
حقوقِ انسانی کی 2 تنظیموں نے کہا ہے کہ ہیٹی کے علاقے آرتیبونائٹ میں ایک گینگ کے 'قتل عام' میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے، ، جب کہ تقریباً 6,000 رہائشی جین ڈینس اور پونٹ سونڈے شہروں پر حملوں سے فرار ہوگئے۔
ڈیفنڈرز پلس کے شعبہ اطلاعات کے عہدیدار گیری دوریسکات نے کہا کہ یہ حملے 'جان اور حفاظت کے حق کی کھلی خلاف ورزیاں' ہیں، اور اُنھوں نے ہیٹی کی حکومت پر 'قابلِ نفرت بے عملی' کا الزام لگایا جو کہ ' اس واقع میں ملوث ' ہونے کے مترادف ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ 50 سے زائد گھر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں اور بے گھر خاندان 'غیر انسانی حالتِ بے بسی' میں آس پاس کے شہروں کی طرف بھاگ گئے۔
دونوں تنظیموں نے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، اور خبردار کیا کہ اب ریاست کا خون ریزی کے جواب میں بے حسی کا مظاہرہ کرنا نا قابلِ قبول ہے۔
ہیٹی کے محکمہ پولیس نے کہا ہے کہ اتوار کی صبح پولیس نے ، گینگ سپریشن فورس کے اہلکاروں کی حمایت سے، جین ڈینس پر 'گران گریف' گینگ کے حملے کے بعد مداخلت کے لیے پہنچے۔
گینگ نے پولیس کی مداخلت کو روکنے کے لیے خندقیں کھودی تھیں اور راستے بند کیے تھے، تاکہ فرار ہونے سے پہلے قتل و جلانے کے لیے وقت ملے۔
پولیس نے اپنے سرکاری اعداد و شمار میں 16 ہلاکتوں اور 10 زخمیوں کی تصدیق کی، جو حقوقِ انسانی تنظیموں کی جانب سے دیے گئے اعداد و شمار سے بہت کم ہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے تب سے امن بحال کر دیا ہے اور آس پاس کے علاقوں میں باقی ماندہ گینگ ارکان کی تلاش جاری ہے۔
یہ قتلِ عام ایک ایسے ملک میں خونریزی کا تازہ واقعہ ہے جو برسوں سے گینگ تشدد اور سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے۔