اسرائیل کی طرف سےغزہ میں کی گئی نسل کشی نے عالمی انسانی حقوق کی اقدار کو شدید متاثر کیا ہے: اردوعان

اسرائیل کی غزّہ نسل کشی اس بات کی علامت ہے کہ اقوامِ متحدہ کے عالمگیر اعلامیے برائے انسانی حقوق میں درج اقدار "شدید کمزور" ہو چکی ہیں: صدر اردوعان

By
ترکی کے صدر ایردوان نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں امن اور انصاف کمزور پڑ رہے ہیں۔ [فائل فوٹو] / Reuters

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان  نے آج بروز بدھ  جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی غزّہ  میں نسل کشی، جس میں 70,000 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا جا چُکا ہے، اس بات کی علامت ہے کہ اقوامِ متحدہ کے عالمگیر اعلامیے برائے انسانی حقوق میں درج اقدار "شدید کمزور" ہو چکی ہیں۔

ترکیہ صدارتی محکمہ اطلاعات نے، یومِ حقوقِ انسانی کی مناسبت سے صدر رجب طیب اردوعان کے بیان کو جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ "بدقسمتی سے، بین الاقوامی برادری کی تمام کوششوں کے باوجود، غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سفّاکی اور مظالم جاری ہیں"۔

صدر اردوعان  نے اقوامِ متحدہ کے عالمی اعلامیے برائے انسانی حقوق  کی منظوری کی 77ویں سالگرہ  کے موقع پر، ترکیہ کے عوام اور پوری انسانیت کو، مبارکباد پیش کی اور کہا ہے کہ انسانیت کی مشترکہ اقدار اور مشترکہ کامیابیوں کی نمائندہ یہ اہم دستاویز، ہر فرد کے پیدائشی حقوق کے تحفظ کے لئےبحیثیت ایک عالمی عہد کے، آج بھی برقرار ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ "دنیا کے بہت سے حصّوں میں حقوقِ انسانی اعلامیے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جس کے باعث  امن اور انصاف جیسے تصورات بتدریج اپنا مفہوم کھو  رہے ہیں۔ غزہ ملبے کے ایک وسیع ڈھیر میں تبدیل ہو چُکا ہے اور اس کی جلد از جلد تعمیر ِ نو پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے"۔

غزہ میں امن

صدر  اردوعان نے  مزید کہا ہے کہ "غزہ میں منصفانہ اور پائیدار امن کا راستہ ترکیہ کے تعاون سے نافذ ہونے والی فائر بندی کے استحکام اور دو ریاستی حل پر عملدرآمد سے گزرتا ہے۔اس معاملے میں بھی اسرائیل قانون اور ضابطے کی پرواہ  کئے بغیر  فائر بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے  ہے ۔اسرائیل، جنگ بندی کے بعد  11 اکتوبر سے تاحال  کم از کم 370 فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ "یہ پہلو اشد ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کرے تاکہ غزہ کو دوبارہ  نسل کُشی  کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے"۔

امن، مذاکرات اور انسانی وقار کے لیے ترکیہ کا عزم

صدر اردوعان نے کہا ہے کہ انقرہ، سوڈان میں بھی خونریزی کے خاتمےاور استحکام و سلامتی کی بحالی کے لئے، امن اور مذاکرات پر مرکوز، کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ثقافتی نسلیت پرستی، اسلام دشمنی اور اجنبی دشمنی کے خلاف جدوجہد بھی،  اعلامیے کے  اصولوں کی پابندی کے حوالے سے، کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

صدر اردوعان نے کہا ہے کہ "نفرت پر مبنی جرائم اور نفرت آمیز بیانات کی طرف سے لاپرواہی بلکہ اکثر اوقات اظہارِ بیان کی آزادی  کے بہانے سے ان کی حوصلہ افزائی ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے"۔

" انسانوں کے درمیان رنگ، نسل اور زبان جیسی تفریق کئے بغیر انسانی مساوات کی قدر ہمیں اپنی دیرینہ تاریخ سے ورثے میں ملی ہے اور ہم، بحیثیت ترکیہ،اپنے قلبی جغرافیے سمیت پوری  دنیا  میں انسان، حق اور وقار  جیسی اقدار کا دفاع جاری رکھیں گے"۔