غزہ میں ترک فوجیوں کی تعیناتی پر بحث کی جائے گی: ٹرمپ

امریکی صدر نے کہا ہے کہ "میرا ترک صدر ایردوان کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے، اور جب وہ فلوریڈا میں نیتن یاہو سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں، اس بارے میں بات کریں گے"۔

By
President Donald Trump listens as he greets Netanyahu at his Mar-a-Lago club, Dec. 29, 2025. / AP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کے ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ ’اعلی  تعلقات‘  قائم ہیں اور وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ترک فوجیوں کے غزہ میں ممکنہ نفاذ پر بات کریں گے۔

ٹرمپ نے پیر کو ایک سوال کہ 'کیا وہ توقع کرتے ہیں کہ ترک فوجیوں کو غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے تحت تعینات کیا جائے گا' کے جواب میں کہا کہ ’میرے صدر ایردوان کے ساتھ بہت اچھے  تعلقات ہیں، ہم اس بارے میں بات کریں گے۔ یہ  ایک اچھا  فیصلہ ہو گا، یہ چیز ان کے 20 نکاتی غزہ جنگ بندی منصوبے میں درج ہے۔

نیتن یاہو،  ٹرمپ  کے دوسری بار سدارتی عہدہ سنبھالنے کے  آغاز کے بعد سے امریکہ کا پانچواں دورہ کر رہے ہیں، اور ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اکتوبر کے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔

اسرائیلی قتلِ عام میں اکتوبر 2023 سے اب تک 71,200 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 171,200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

بڑھتی ہوئی مایوسی

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں جنگ روکنا، جزوی اسرائیلی انخلا، تمام اسرائیلی یرغمالیوں — زندہ اور مردہ — کا تبادلہ ، جس کے جواب میں  سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں ’مطلوبہ انسانی امداد‘ کی آمد شامل تھی۔

دوسرے مرحلے میں، جو ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں بیان کیا گیا ہے، مکمل اسرائیلی انخلا، حماس کا اسلحہ ضبط کرنا، ISF کی تعیناتی، اور عارضی طور پر غزہ کی نگرانی کے لیے ایک فلسطینی ’ٹیکنوکریٹ‘ کمیٹی کا قیام شامل ہے۔ اسرائیل ISF میں ترک فوجیوں کی شمولیت کی مخالفت کرتا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل غزہ کے داخلی راستے زیادہ تر بند رکھتا ہے، جس کی وجہ سے موبائل گھر اور تعمیراتی مواد داخل نہیں ہو پا رہے اور دو ملین سے زائد افراد کو متاثر کرنے والی انسانی صورتِ حال مزید بگڑ گئی ہے۔

اخبار Axios نے گزشتہ ہفتے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کی اعلیٰ ٹیم نیتن یاہو کے اُن اقدامات پر ’بڑھتی ہوئی مایوسی‘ محسوس کر رہی ہے جو نازک جنگ بندی کو کمزور کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے تک ’’بہت جلد‘‘ پہنچ جائیں گے۔

وینزویلا، ایران

دریں اثنا، ٹرمپ نے کہا کہ ایک حالیہ امریکی حملے نے وینزویلا کے ایک ڈاک یارڈ  کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر منشیات سے بھری کشتیوں کے لوڈنگ کے لیے استعمال ہوتا تھا، جس سے ’بڑا دھماکہ‘ ہوا اور وہ جگہ اب قابلِ  استعمال نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ  ہمارا ہدف ایک ساحلی تنصیب  تھی جہاں منشیات کو بحری نقل و حمل کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔

ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملہ کس امریکی ایجنسی نے کیا، صرف اتنا کہا کہ انہیں معلوم ہے کون ذمہ دار ہے مگر وہ اسے ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقام ساحل کے قریب  تھا۔

جب پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے حال ہی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے بات کی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’ حال ہی میں‘ بات چیت کر چکے ہیں مگر اس سے ’زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘

قارا قاس  نے نہ توٹیلی  فونبات چیت اور نہ ہی مبینہ حملے پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ایران کے بارے میں، ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران وہ جوہری پروگرام دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جسے انہوں نے جون میں نشانہ بنایا تھا تو امریکہ جلد ہی ایران پر نئے حملے شروع کر دے گا۔

’میں نے سنا ہے کہ ایران دوبارہ قوت جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اگر وہ ایسا کر رہا ہے تو ہمیں اسے روکنا ہوگا،‘  ، ’ہم انہیں پوری طرح تباہ کر دیں گے۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی  ’معاہدے‘ پر گفت و شنید کے لیے  تیار ہیں، جسے انہوں نے ’زیادہ ذی فہم ‘ قرار دیا۔