دمشق کے ضلع ییت جینن پر اسرائیلی حملے میں 13 افراد ہلاک
متعدد خاندانوں کو اسرائیلی حملے کے بعد دمشق کے ارد گرد کے بیت جینن اور قریبی علاقوں میں بے گھر ہونا پڑا۔
شام کے دمشق کے نواح میں واقع شہر بیت جِین اور مزرعَت بیت جِین تک جانے والی سڑک پر جمعہ کی صبح سویرے ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
انادولو کے نمائندے نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک شدگان میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔
سرکاری شامی ٹی وی چینل 'الاخباریہ' نے رپورٹ کیا کہ ضربوں کے بعد اسرائیلی ڈرون علاقے میں خاص طور پر دونوں قصبوں کو جوڑنے والی سڑک کے اطراف پروازیں جاری رکھے ہوئے تھے ۔
اس نے مزید کہا کہ کئی متاثرین ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں اور مقامی رہائشی انہیں نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
شامی عربی نیوز ایجنسی (صنا) کے مطابق، اسرائیلی حملے کے بعد سول ڈیفنس کی ٹیموں اور دمشق کے نواحی صحت ڈائریکٹوریٹ کی دو ایمبولینسیں لاشیں منتقل کرنے اور زخمیوں کا علاج کرنے کے لیے علاقے کو گئی ہیں
'الاخبارية' نے بتایا کہ حملے کے بعد درجنوں خاندان بیت جین سے قریبی محفوظ علاقوں کی طرف فرار ہو گئے۔
اس سے پہلے چینل نے اطلاع دی تھی کہ ایک اسرائیلی گشتی دستہ شہر میں داخل ہوا اور کچھ دیر کے لیے مقامی رہائشیوں سے جھڑپیں ہوئیں، پھر وہ واپس چلا گیا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن کے دوران چھ اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے 'جماعة اسلامیہ' کے ارکان کو گرفتار کیا ہے اور الزام عائد کیا کہ وہ 'جنوبی شام کے بیت جین کے علاقے میں کارروائی کرتے تھے اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف حملے انجام دیتے تھے'۔
اسرائیلی حملے اور اس دعوے پر شامی حکام کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی فوج نے نومبر میں جنوبی شام میں 47 حملے کیے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 2024 سے اسرائیلی فوج نے شام میں ایک ہزار سے زائد ہوائی حملے اور جنوبی صوبوں میں 400 سے زائد سرحد پار چھاپے مارے۔