امریکہ اور ایران 45 روزہ فائر بند پر غور کر رہے ہیں

ٹرمپ نے Axios کو بتایا کہ امریکہ 'وسیع پیمانے کے مذاکرات' کر رہا ہے اور کوئی معاہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 'امکانات اچھے ہیں، مگر اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو میں وہاں سب کچھ تباہ کر دوں گا۔'

By
امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث مبینہ طور پر 45 روزہ جنگ بندی کے امکان پر بات چیت کر رہے ہیں۔ (فائل) / AP

امریکہ، ایران، اور ایک گروپ علاقائی ثالثوں نے ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی ہے جو جنگ کے مستقل خاتمے تک لے جا سکتی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں جزوی معاہدے کے امکانات معدوم  ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں شدت  کا سد باب کرنے  کا واحد ممکن راستہ ہے۔

اس میں ایرانی شہری بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملے اور خلیجی ریاستوں میں توانائی اور پانی کی تنصیبات  کے خلاف جوابی کاروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

قبل ازیں، صدر ٹرمپ نے اپنی ڈیڈ لائن 20 گھنٹے بڑھا دی اور نئی ڈیڈ لائن منگل شام 8 بجے  تک مقرر کی۔

ٹرمپ نے Axios کو بتایا کہ امریکہ 'وسیع پیمانے کے مذاکرات' کر رہا ہے اور کوئی معاہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 'امکانات اچھے ہیں، مگر اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو میں وہاں سب کچھ تباہ کر دوں گا۔'

دو مرحلہ منصوبہ

بات چیت مبینہ طور پر پاکستانی، مصری، اور ترک ثالثوں کے ذریعے ہوئی، نیز  نمائندہ  اسٹیو وِٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہِ راست پیغامات کا بھی تبادلہ ہوا۔

تجویز کردہ دو مرحلہ معاہدہ 45 دن کی جنگ بندی کے بعد جنگ کے مستقل خاتمے پر مبنی ہے۔

ثالثین  کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا اور ایران کے بلند سطح کے افزودہ یورینیم کے مسئلے کا حل صرف ایک حتمی معاہدے سے ہی ممکن  بن  سکتا ہے۔

ایرانیوں نے واضح کیا کہ وہ 'غزہ یا لبنان جیسا منظرنامہ' نہیں چاہتے جہاں جنگ بندی صرف کاغذ پر موجود ہو۔

دریں اثنا،  ایرانی  بحریہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کبھی بھی جنگ سے پہلے جیسی نہیں ہوگی۔

ثالثوں نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ مزید حربی چالوں کے لیے وقت نہیں ہے، کیونکہ اگلے 48 گھنٹے وسیع پیمانے پر تباہی روکنے کا آخری موقع ہیں۔